.

اسرائیل سے پہلی براہِ راست پرواز کی سعودی عرب کی فضاؤں میں سفر کے بعد یو اے ای آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان طے شدہ تاریخی امن معاہدے کا ایک اور سنگ میل عبور ہوگیا ہے اور تل ابیب سے سوموار کو ایک براہِ راست پرواز امریکی اسرائیلی وفد کو لے کر ابو ظبی پہنچ گئی ہے۔

اس اسرائیلی طیارے نے تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے سے اڑان بھری تھی اور یہ سعودی عرب کی فضاؤں میں پرواز کرتا ہوا براہ راست ابو ظبی کے ہوائی اڈے پر پہنچا ہے۔اس طیارے کے کپتان نے پرواز سے قبل اعلان میں بتایا کہ وہ ایک تاریخی سفر پر روانہ ہورہے ہیں اور سعودی عرب کی فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے جائیں گے جس کی وجہ سے ان کے سفر کا دورانیہ کم ہوجائے گا۔

اس طیارے میں آنے والے اسرائیلی امریکی وفد کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینیر مشیر اور داماد جیرڈ کوشنر کررہے ہیں۔ وفد میں امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن اور اسرائیل کی قومی سلامتی کے مشیر مئیر بن شبات بھی شامل ہیں۔

ان کے علاوہ مالیات ، صحت ، سیاحت ، سرمایہ کاری ، خارجہ امور ، سفارت کاری اور ثقافت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسرائیل کے نمائندے اس وفد کا حصہ ہیں۔

اس گروپ کے ارکان متحدہ عرب امارات کے نمایندوں سے آج ہی بالمشافہ ملاقات کرنے والے ہیں اور مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

دونوں ملکوں کو 13 اگست کو تاریخی امن معاہدے کے بعد تل ابیب سے ابوظبی پہنچنے والا یہ پہلا بوئنگ طیارہ 737 اسرائیل کی قومی فضائی کمپنی ایل آل کا حصہ ہے۔ اس پر لفظ امن (سلام) تین زبانوں عربی ، انگریزی اور عبرانی میں پینٹ کیا گیا ہے۔ طیارے کے کپتان نے بھی اس الفاظ کے ساتھ محو سفر مسافروں کا خیر مقدم کیا۔

واضح رہے کہ یو اے ای سے مئی میں پہلی براہ راست پرواز اسرائیل گئی تھی۔یہ امارت ابوظبی کی ملکیتی کمپنی اتحاد ائیر ویز کے دو مال بردار طیارے تھے۔ان پر اسرائیل کے ذریعے فلسطینیوں کے لیے کرونا وائرس سے متعلق ادویہ اور طبی ساز وسامان بھیجا گیا تھا۔