.

ترکی کی شمالی قبرص میں فوجی مشقوں کاآغاز،مشرقی بحرمتوسط میں کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی مسلح افواج نے اتوار کے روز شمالی قبرص میں سالانہ فوجی مشقیں شروع کردی ہیں جبکہ بحر متوسط کے مشرقی حصے میں اس کی یونان سے جاری کشیدگی میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔

ترکی حالیہ ہفتوں کے دوران میں سمندر میں گیس اور تیل کے ذخائر کی دریافت کی سرگرمیوں میں مصروف رہا ہے جبکہ یونان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اس کے ملکیتی پانیوں میں گیس اور تیل کے ذخائر تلاش کررہا ہے جبکہ ان پانیوں میں صرف اسی کو گیس اور تیل کی تلاش کا حق حاصل ہے۔اس تنازع پرمعاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو میں شامل ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز یونان کو خبردار کیا تھا کہ :’’ وہ یاتو سیاست اور سفارت کاری کی زبان سمجھے گا یا پھر میدان جنگ میں سخت تجربے سے سیکھے گا۔‘‘

نیٹو نے قبل ازیں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کی بحری افواج کے درمیان ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے ٹیکنیکل بات چیت کا آغاز کیا جائے گا لیکن یونان کا کہنا ہے کہ اس نے بات چیت سے اتفاق نہیں کیا اور ترکی نے یونان پر مکالمے کو ٹھکرانے کا الزام عاید کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس کشیدہ ماحول میں ترک فوج نے ترک قبرصی سکیورٹی کمان سے مل کر مشقوں کا آغاز کیا ہے۔ترک نائب صدر فواد اوختے نے ٹویٹر پر ’’طوفانِ بحر متوسط ‘‘ کے نام سے ان مشقوں کی اطلاع دی ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ ہمارے ملک اور ٹی آر این سی (ترک جمہوریہ شمالی قبرص) کی سکیورٹی ترجیحات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔‘‘

ترکی کی وزارت دفاع نے بھی ایک ٹویٹ میں ان مشقوں کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ یہ کامیابی سے جاری ہیں اور آیندہ جمعرات کو اختتام پذیر ہوں گی۔

واضح رہے کہ قبرص 1974ء سے دو حصوں میں منقسم چلاآ رہا ہے۔جنوبی حصہ یونانی قبرص کہلاتا ہے اور اس پر یونان کا اثرورسوخ ہے۔یہ یورپی یونین کی رکن ریاست ہے۔شمالی حصہ ترک قبرص کہلاتا ہے۔ترکی نے شمالی قبرص کے جزیرے میں ہزاروں فوجی تعینات کررکھے ہیں۔

یادرہے کہ ترکی نے ایتھنز کے فوجی حکمرانوں کی قبرص میں بغاوت کے بعد شمالی حصے میں اپنی فوج داخل کردی تھی۔ تب سے یونان اور ترکی کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے۔

1970ء کے عشرے کے بعد دونوں ممالک تین مرتبہ حالت جنگ میں آ گئے تھے۔ان میں سے ایک مرتبہ تو بحیرہ ایجیئن میں تیل اور گیس کی تلاش کے حقوق کے معاملے پر وہ جنگ آزما ہونے کے قریب آ گئے تھے۔بحیرہ ایجیئن دونوں ملکوں کے درمیان واقع ہے اور ایک طرح سے حد فاصل کام دیتا ہے۔