.

امریکا کی نئی پابندیوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے چین کا رخ کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کی حکومت نے بتایا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف آج جمعے کے روز چین کا دورہ کریں گے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی مالیاتی سیکٹر کو بلیک لسٹ کرنے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مختصر بیان کے مطابق ظریف کو اس دو روزہ دورے کی دعوت ان کے چینی ہم منصب وانگ یی نے دی تھی۔ یاد رہے کہ چین کو ایران کا حلیف شمار کیا جاتا ہے۔ وہ 2015ء میں طے پانے والے ایرانی جوہری معاہدے میں ایک فریق کی حیثیت سے بھی شامل ہے۔ امریکا نے 2018ء میں اس معاہدے سے علاحدگی اختیار کر کے ایران پر یک طرفہ طور پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

کل جمعرات کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو مزید بینکاری نظام سے الگ کرنے کی کوشش میں 18 ایرانی بنکوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب واشنگٹن نے ایک ہفتہ قبل ایران پر پابندیوں‌ میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یورپی ممالک نے امریکی بلیک لسٹ کی مخالفت کی تھی کیوں کہ اس طرح ان ممالک کے بڑے بینک اور کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تجارتی معاملات کے سبب امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے عالمی بحران کے وقت میں امریکا کی نئی پابندیوں کو "انسانیت کے خلاف جرم" قرار دیا۔

امریکا نے 2015ء میں طے پانے والے ایرانی جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے واسطے اپنی کوششوں کو بڑھا دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ایران کی تیل کی فروخت پر پابندیوں اور ایرانی سرکاری ذمے داران کو بلیک لسٹ کرنے کے ذریعے تہران پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس سے قبل جنوری میں وہ بغداد کے ہوائی اڈے کے باہر ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔