.

کاراباخ سے ترکی کے اجرتی جنگجوؤں کی روس میں دراندازی، ماسکو کی گہری تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماسکو حکومت نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے آذربائیجان منتقل کیے جانے والے شامیوں میں بعض اجرتی جنگجوؤں کے روس چلے جانے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ 27 ستمبر سے ناگورنو کاراباخ میں جاری مسلح تنازع میں انقرہ حکومت کی جانب سے آرمینیا کے مقابل آذربائیجان کی مسلسل اعلانیہ حمایت جاری ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ اولگ سیرومولتوف نے روسی خبر رساں ایجنسی اسپٹنک کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اس بات سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ اس وقت ناگورنو کاراباخ میں لڑنے والے شامی یا لیبیائی اجرتی جنگجوؤں کے روس میں دراندازی کرنے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "خطرے کے اس امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی چیز کی توقع کی جا سکتی ہے"۔

سیرومولتوف نے باور کرایا کہ قانون نافذ کرنے والی روسی ایجنسیاں اس پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں اور انہوں نے اپنے کان تنازع کے علاقے میں جاری حالات و واقعات پر لگا رکھے ہیں۔

یاد رہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے منگل کے روز اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی۔ پوتن نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ناگورنو کاراباخ کے تنازع میں مشرق وسطی سے جنگجوؤں کی مداخلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس موقع پر ایردوآن نے آرمینیا پر کرد جنگجوؤں کی امداد کا الزام عائد کیا۔

گذشتہ روز جمعرات کو پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ ناگورنو کاراباخ میں لڑائی ختم کرنے کے واسطے جاری بات چیت میں ترکی کی شرکت ضروی ہے۔

ادھر یورپی یونین نے گذشتہ روز کہا کہ تقریبا ایک ماہ سے جاری تنازع کو مزید بھڑکانا "ناقابل قبول" امر ہے۔ یونین نے زور دیا کہ فائر بندی کے تین معاہدوں کے ختم ہو جانے کے بعد مستقل تصفیہ یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ ناگورنو کاراباخ میں 27 ستمبر سے جاری مسلح تصادم میں اب تک فریقین کے سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران کاراباخ سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی کر لی۔ مذکورہ علاقہ جہاں آباد لوگوں کی اکثریت آرمینیائی نژاد ہے ،،، آذربائیجان سے آزادی اور علاحدگی کے لیے کوشاں ہے۔