.

ایرانی حکام نے مصلوب صحافی سے رہائی کا جھوٹا وعدہ کیا،پھانسی کا نوٹس بھی نہیں دیا:والد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکومت مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکائے گئے صحافی روح اللہ زَم کے والد نے الزام عاید کیا ہے کہ حکام نے ایک قیدی کے تبادلے میں ان کے بیٹے کی رہائی کا جھوٹا وعدہ کیا تھا اور پھانسی سے قبل انھیں کوئی نوٹس بھی نہیں دیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق روح اللہ زَم کو ہفتے کی صبح تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔مصلوب کے والد محمد علی زَم نے انسٹاگرام کی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’عدالتی حکام نے ایک قیدی کے تبادلے میں ان کے بیٹے کی رہائی کا جھوٹا وعدہ کیا تھا۔‘‘ محمد علی خود ایک عالم ہیں اور وہ 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’’حکام نے روح اللہ زم کو ’’حیلے بہانے اور چکربازی‘‘سے جھوٹے اعترافات پر مجبور کیا تھا اور انھیں یہ باور کرایا تھا کہ اس طرح ان کے اعترافی بیانات سے قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں ان کی رہائی میں مدد ملے گی۔‘‘

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ان کے خاندان کو زم کو پھانسی دینے کا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔نیز ان کے بیٹے کو یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ نے ان کی اپیل مسترد کردی ہے اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔‘‘

روح اللہ زم نے پیغام رسانی کی مقبول ایپ ٹیلی گرام پر’’آمد نیوز‘‘کے نام سے ایک چینل بنا رکھا تھا۔اس کے پیروکاروں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ تھی۔ان کی ایک ویب سائٹ بھی تھی۔ان کے ذریعے 2017ء میں خوراک کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے خلاف ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق پیغامات کی تشہیر کی جاتی تھی۔تاہم ایرانی حکومت کی درخواست پر ان کا انسٹاگرام پر چینل بند کردیا گیا تھا۔

انھوں نے فرانس میں سیاسی پناہ حاصل کررکھی تھی اور وہ یورپ کے دوسرے حصوں میں بھی جلاوطن کے طور پر مقیم رہے تھے۔انھیں 2019ء میں تہران میں واپسی پر سپاہ پاسداران انقلاب نے گرفتار کر لیا تھا۔

تب پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’انھوں نے زم کو ایک پیچیدہ سکیورٹی آپریشن کے ذریعے جال میں پھنسایاتھا اور انھیں سراغرسانی کے فریب کے ذریعے گرفتار کیا گیا تھا۔‘‘مگران کی ایران میں گرفتاری کی تفصیل ابھی تک منظرعام پر نہیں آئی۔اس سال کے اوائل میں ٹیلی ویژن سے ان کے اعترافی بیانات بھی نشر کیے گئے تھے۔

جون میں ایک انقلابی عدالت نے روح اللہ زَم کو سزائے موت سنائی تھی اور انھیں ’’فساد فی الارض‘‘کا مجرم قرار دیا تھا۔انھیں ملک میں تین سال قبل احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے کے لیے آن لائن مہم چلانے کی پاداش میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ایران میں ایسے افراد پر بالعموم جاسوسی میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں یا انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش پر قصور وار قرار دیا جاتا ہے۔

ایران کی عدالتِ عظمیٰ نے گذشتہ منگل کے روز انقلابی عدالت کے اس فیصلہ کو برقرار رکھا تھا۔ایرانی قانون کے تحت روح اللہ زم یا ان کے وکیل عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ایک اور اپیل دائر کرسکتے تھے لیکن اس سے قبل ہی انھیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی عدلیہ کے سربراہ کو کسی ماتحت عدلیہ کے سزائے موت کے فیصلہ کو منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔اس کے علاوہ وہ ماتحت عدالتوں میں شریعت کے منافی کارروائی کی صورت میں دوبارہ مقدمے کی سماعت کا حکم دے سکتے ہیں۔