.

کروناوائرس:چین کی فضائی عملہ کو ٹوائلٹس جانے سے گریزاور ڈائپر پہننے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کی شہری ہوابازی کی انتظامیہ (سی اے اے سی) نے فضائی میزبان عملہ کو پروازوں کے دوران میں ٹوائلٹس میں جانے سے بچنے کے لیے ڈائیپرز پہننے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہونے سے محفوظ رہیں۔

واضح رہے کہ ایک سال قبل چین کے شہر ووہان سے کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد شہری ہوابازی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بیشتر فضائی کمپنیاں پروازیں بند ہونے سے مالی بحران سے دوچار ہوگئی ہیں اور انھوں نے اپنے پائلٹوں اور معاون میزبان عملہ کو فارغ کردیا ہے۔تاہم اب آہستہ آہستہ بین الاقوامی پروازیں بحال ہورہی ہیں۔اس کے ساتھ فضائی عملہ کا روزگار بھی بحال ہورہا ہے۔

چین نے اگست میں اپنی بیشتر پروازیں بحال کردی تھیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ’’چین کی شہری ہوابازی کی اتھارٹی نے فضائی عملہ کو پروازوں کے دوران میں طہارت خانوں میں جانے سے گریز اور ڈائپر پہننے کی سفارش کی ہے۔اس کا اطلاق ان تمام ممالک کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والی پروازوں کے عملہ پر ہوگا جہاں کرونا وائرس کے کیسوں کی شرح پانچ سو فی دس لاکھ ہے۔‘‘

سول ایوی ایشن انتظامیہ کے حکم کے مطابق کم خطرے کے حامل ممالک میں جانے اور وہاں سے آنے والی پروازوں کے عملہ سے کہا گیا ہے کہ انھیں طیاروں میں مخصوص پرائیویٹ باتھ روم کو استعمال کرنا چاہیے اوراس کو ہر مرتبہ استعمال سے پہلے اور بعد میں جراثیم کیش اسپرے سے پاک کرنا چاہیے۔

سی اے اے سی نے پروازوں میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے اور عملہ کے تحفظ کے لیے ترمیمی رہ نما ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔اس میں ڈائپر استعمال کرنے کی سفارش کو ’’ذاتی تحفظ کے آلات‘‘ کے سیکشن میں شمار کیا ہے۔

اس نے ہدایت نامہ میں درج ذیل اشیاء کو ذاتی تحفظ کے آلات میں شمار کیا ہے:سرجیکل ماسک ،دُہری تہ والے ایک ہی مرتبہ قابلِ استعمال دستانے ،رات کو دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والی خصوصی عینکیں،ایک ہی مرتبہ قابل استعمال جوتوں کے کور۔اس کے علاوہ اب فضائی میزبان عملہ کو ڈائپر پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈاکٹروں نے طیاروں کے خانوں (کیبن) کو تو کم خطرے کے حامل قرار دیا ہے لیکن وہ بار بار اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ لمبے سفر پر جانے والےطیاروں کے طہارت خانے کرونا وائرس کے پھیلنے کا موجب بن سکتے ہیں۔