.

ڈونلڈٹرمپ سابق عراقی صدر صدام حسین کے مشابہ،ایران قاسم سلیمانی کاانتقام لے گا:حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عراق کے سابق مطلق العنان صدر صدام حسین کے مشابہ قرار دیا ہے اور ایرانی نظام کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مقتول کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا۔

انھوں نے جمعرات کو ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ صدام ہی کی طرح ہیں۔ صدام حسین نے ہم پرآٹھ سالہ جنگ مسلط کی تھی۔انھیں اقتدار سے نکال باہر کیا گیا تھا۔ٹرمپ نے ہم پر تین سالہ جنگ مسلط کی۔انھیں بھی آیندہ تین ہفتوں میں اقتدار سے نکال باہر کیا جائے گا۔انھیں ان کے جبرواستبداد اور جرائم کی بدولت تاریخ میں ایک بے توقیر شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘‘

ایران نےعراق کے خلاف 1980ءسے 1988ء تک تباہ کن جنگ لڑی تھی لیکن 2003ء میں امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج کی عراق پر چڑھائی کے بعد ان کے اقتدار کا دھڑن تختہ ہوگیا تھا۔بعد میں امریکا نے صدام حسین کو گرفتار کرنے کے بعد پھانسی چڑھا دیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے سپاہِ پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی پہلی برسی سے تین روز پہلے تقریر کی ہے۔قاسم سلیمانی اور ایران کی حمایت یافتہ عراق کی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشدالشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس تین جنوری 2020ء کو امریکا کے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

ایرانی لیڈرمقتول قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔حسن روحانی سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے والے ’’جرائم پیشہ افراد‘‘ کا کڑا انتقام منتظر ہےاورامریکا اور اسرائیل کی مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اپنے چار سالہ اقتدار میں ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پرعمل پیرا رہی ہے۔صدر ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پردستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کرنا شروع کردی تھیں۔

حالیہ دنوں میں ایرانی لیڈروں نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ منتخب صدر جوزف بائیڈن کے دور میں امریکا، ایران تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔انھوں نے انتخابی مہم کے دوران میں ایسے اشارے دیے تھے کہ امریکا ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شامل آجائے گا اور ایران کے ساتھ سفارتی سلسلہ جنبانی شروع کرے گا۔