.

سعودی عرب: قصہ الباحہ کے پہاڑوں پر اگنے والے بادام کا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع پرفضا مقام الباحہ کے سفید پہاڑوں نے بادام کے درختوں پر لگنے والے پھولوں کی چادر اوڑھ کر اپنا منفرد رنگ اور روپ پیش کیا ہے۔

البجلی بادام جسے 'خاکی بادام' بھی کہا جاتا ہے کے پھولوں کی وجہ سے الباحہ کے پہاڑوں کا دلفریب منظر ایسے لگتا ہے گویا یہ قدرت کی خاص کاری گری سے تیار کردہ پینٹنگ ہے۔ ان مناظر کو پہلی نگاہ میں دیکھنے والا اس کے سحر میں متبلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ نگاہ بینا رکھنے والوں کے لیے یہ پھول ہیرے موتیوں اور لعل وجواہرات سے کم خوبصورت اور دلکش نہیں ہیں۔

البجلی بادام کا شمار طویل عمر تک رہنے والے درختوں میں ہوتا ہے۔ یہ سفید رنگ کے پھول ہی نہیں اگاتے بلکہ ان پر لگنے والے پھلوں کی اپنی طبی اور غذائی افادیت ہے۔ موسم بہار میں ان کا رنگ گلابی ہوتا اور خاکستری بادام ان پھولوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ شروع میں یہ سبز رنگ کے ہوتے ہیں اور مقامی زبان میں انہیں 'الغضاریف' کہا جاتا ہے۔

بادام ٹھنڈے علاقوں کا پودا ہے۔ اگر درمیانے حجم کے درخت پر موسم پر صحیح پھل لگ جائے تو یہ آسانی کے ساتھ 150 کلو گرام تک پھل دے دیتا ہے۔ بادام کو خشک میوہ کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا تیل بھی کشید کیا جاتا ہے۔ گلابی رنگ کے موسمی بادام کی کئی ممالک میں باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ درمیانے درجہ حرارت میں یہ زیادہ بہتر پھل دیتا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ بادام کے پھل میں فاسفورس، میگنیشیم، کیلشیم، آئرن اور نیاسین سمیت کئی دوسرے قدرتی خوص اور مرکبات پائے جاتے ہیں۔

الباحہ کے پہاڑوں پر اس وقت بادام کے 30 ہزار پودے ہیں جن سے ہر سال تیس ہزار کلو گرام بادام حاصل کیا جاتا ہے۔ اس پودے کی خاصیت یہ ہے کہ اسے کاشت کاروں کی اضافہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ خود رو طریقے سے ہی اگتا رہتا ہے۔