.

ایران کے جوہری تنازع پر مذاکرات میں سعودی عرب کو شامل کیا جانا چاہیے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانوئل میکروں نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے مابین بات چیت بحال میں مدد کے لیے پوری طاقت صرف کرنے کا ارادہ رکھتےہیں۔

انہوں نے اٹلانٹک کونسل برائے ریسرچ سے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب اور دوسرے ممالک کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بارے میں کسی بھی نئی بات چیت میں شریک ہونا چاہیئے۔

انہوں نےمزید کہا کہ میں کسی بھی نئی بات چیت کا آغاز کرنے کے لیے کسی بھی امریکی اقدام کی حمایت کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک سہولت کار کے طور پر کام کروں گا۔

بدھ کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ایران کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اتحادیوں اور کانگریس سے مشورے سے پہلے ایران کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کرےگا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایرانیوں کی طرف سے کسی بھی تجویز پر غور کرنے سے پہلے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔ 28 جنوری کو امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ واشنگٹن سے مذاکرات سے پہلے اپنے جوہری معاہدے کی پاسداری کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گر ایران مشترکہ جامع منصوبہ بندی (جوہری معاہدے) کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر پوری طرح عمل پیرا ہوتا ہے تو امریکہ بھی یہی کام کرے گا۔

بلنکن نے کہا کہ اگر ایران اس معاہدے کی پاسداری کرنے پر واپس آیا تو واشنگٹن ایک طویل اور مضبوط معاہدہ کی تشکیل کی کوشش کرے گا۔