سفارت کاری کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے : امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایک بار پھر واشنگٹن کا یہ موقف دہرایا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

آج اتوار کی صبح اپنی ٹویٹ میں انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے روبرٹ میلے کو ایران کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کرنے کا خیر مقدم کیا۔

بلنکن نے زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے سفارت کاری سب سے بہتر راستہ ہے۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے چند روز قبل بتایا تھا کہ ایران نے معدنیاتی یورینیم کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ مزید یہ کہ وہ 8 فروری کو اصفہان کی تنصیب میں 3.6 گرام معدنیاتی یورینیم کی موجودگی یقینی بنا چکا ہے۔

واضح رہے کہ معدنیاتی یورینیم جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت جوہری معاہدے پر منفی طور سے اثر انداز ہو گا۔ یہ معاہدہ مئی 2018ء میں امریکا کے علاحدہ ہونے اور تہران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے وقت سے برباد ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

جو بائیڈن کی انتظامیہ واضح کر چکی ہے کہ اگر تہران اس جوہری معاہدے کی تمام تر خلاف ورزیوں سے رجوع کر لے تو امریکا اس معاہدے میں واپس آ سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایران کو امید ہو چلی ہے کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے مشترکہ جامع عملی منصوبہ پھر سے زندہ ہو جائے گا۔

اگرچہ تہران اور واشنگٹن دونوں ہی اس معاملے میں سنجیدہ مکالمے کے دوبارہ آغاز کے لیے سامنے والے فریق سے پہلا قدم اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں