.

یمنی حوثی مآرب میں جنگی کارروائی اور سعودی عرب پر حملے فوری روک دیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کی شمالی گورنری مآرب میں اپنی جنگی کارروائی سرحد پار سعودی عرب پر حملے فوری طور پر روک دیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’حوثیوں کا مآرب میں حملہ ایک ایسے گروپ کی کارروائی ہے جو یمن میں جاری جنگ کے خاتمے یا امن کا عزم نہیں رکھتا ہے۔‘‘

ان کے اس بیان سے پہلے امریکا نے سرکاری طور پر حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے اور حوثی ملیشیا کا نام عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔

یمن کے شمال میں مآرب واحد صوبہ ہے جس پر صدرعبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کا کنٹرول ہے۔باقی شمالی صوبوں اور علاقوں پر حوثی ملیشیا کا قبضہ ہے اور اب اس نے مآرب پر قبضے کے لیے بھی ایک نئی فوجی کارروائی شروع کی ہے۔اس کے خلاف امریکا کا یہ پہلا سخت ردعمل ہے۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’’حوثیوں کے اس حملے سے جنگ زدہ ملک میں دربدر ہونے والے افراد کی تعداد ہی میں اضافہ ہوگا اور انسانی بحران کو مزید بڑھاوا ملے گا۔‘‘

نیڈ پرائس نے کہا:’’امریکا حوثیوں پر زوردیتا ہے کہ وہ مآرب میں اپنی پیش قدمی کو روک دیں،تمام جنگی کارروائیوں کو منجمد کردیں اور مذاکرات کی میز پر لوٹ آئیں۔‘‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ’’اگر حوثی بحران کے مذاکرات کے ذریعے کسی سیاسی حل میں سنجیدہ ہیں تو انھیں تمام فوجی پیش قدمی کو روک دینا چاہیے اور دوسری تخریبی سرگرمیوں اورسعودی عرب پر سرحدپار حملوں سمیت تمام ہلاکت آفرین کارروائیوں سے بازآجانا چاہیے۔‘‘

حوثی ملیشیا نے امریکا کی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے اپنے نام کے اخراج کے باوجود سعودی عرب اور یمن میں حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے حوثیوں نے سعودی عرب کے شہرابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کھڑے ایک سویلین طیارے پر راکٹ حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔راکٹ لگنے سے اس طیارے میں آگ لگ گئی تھی۔

امریکا کے نئے صدر جوزف بائیڈن کی انتظامیہ کو یقین ہے کہ حوثی ملیشیا کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے سے یمن میں امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔تاہم تجزیہ کاروں اور سابق امریکی عہدے داروں نے اس اقدام کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں قریباً بیس لاکھ شہری خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے انڈرسیکریٹری جنرل اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈی نیٹر مارک لوکاک کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جنگی کارروائی سے ممکنہ طور پر ہزاروں ، لاکھوں افراد اپنے گھربار سے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبورہوں گے اور اس کے ناقابلِ تصورانسانی مضمرات ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں