.

نیوم شہر کرّۂ ارض پر سب سے فعال لوگوں کا مسکن ہوگا: ڈائریکٹراسپورٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’سعودی عرب کا پائیدار میگا شہر نیوم کرّۂ ارض پر سب سے فعال لوگوں کا مسکن ہوگا۔‘‘

یہ بات نیوم کے ڈائریکٹراسپورٹس نیل کوپلینڈ نے العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ نیوم شہر کے 75 فی صد مکین ہفتے میں کم سے کم تین گھنٹے کسرت کریں گے۔وہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے قابل رسائی مختلف کسرتی سہولتیں استعمال کریں گے۔

ان کے بہ قول بحیرہ احمر کے کنارے نیوم میں ایک بڑا اور زبردست اسٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا جہاں مہم جوئی کے حامل کھیلوں کی سہولتیں مکینوں کو مہیا کی جائیں گی۔ان میں گہرے سمندر میں غوطہ خوری اور ہائیکنگ شامل ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن کے مطابق نیوم ایک ماحول دوست شہر ہوگا،اس میں کاربن گیس کا اخراج بالکل نہیں ہوگا،اس مقصد کے لیے کار پر سفر کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔اس کے بجائے پیدل اوربائیسکل پر سواری کو ترجیح دی جائے گی۔

نیوم کی انتظامیہ نے کار چلانے کے دلدادہ سعودیوں کے دل ودماغ کو جیتنے کے لیے ایک حکمتِ عملی وضع کی ہے اور یہ نیوم اور مرسڈیزای کیو فارمولا ای ٹیم کے درمیان شراکت داری ہے۔یہ ایک گریجوایٹ پروگرام ہوگا،اس میں لوگوں کو برقی گاڑیوں کی ڈرائیونگ، انجنیئرنگ اور مارکیٹنگ کی خصوصی تربیت دی جائے گی۔

کوپلینڈ نے العربیہ کو بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد نوجوان سعودیوں کو برقی موٹرریسنگ انڈسٹری کی جانب راغب کرنا ہے۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ صحافی ، تبصرہ نگار، پروگرام ترتیب دینے والے مینجر یا ٹیم مینجر بن سکتے ہیں۔نیز اس صنعت میں مختلف کردار اداکیے جاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’اس شہری منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کی خوب صورتی کے تحفظ میں ہے اور ان دونوں میں ایک طرح سے توازن برقرار رکھا جائے گا۔اس مقصد کے لیے 30 ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کام کررہی ہے تاکہ اس شہر کے سبزے اور پائیداری کے اصولوں کو برقرار رکھا جائے۔‘‘

کوپلینڈ نے اس ضمن میں ایک مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’نیوم میں ایک ایسا منصوبہ مکمل کیا گیا تھا جو شہر کے قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے وضع کردہ اصول سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔چناں چہ اس بنا پر اس منصوبہ کو سرے سے ختم کردیا گیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2017ء میں نیوم کے منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔یہ ہمہ نوع اعلیٰ ٹیکنالوجی کا حامل مستقبل کی نسل کا شہر ہوگا اور یہ مملکت میں جدّت طرازی ، تجارت اور تخلیقیت کا عالمی مرکز ثابت ہوگا۔اس شہر کے نام کے پہلے تین حروف نیو (این ای او)لاطینی لفظ نیو(این ای ڈبلیو) سے اخذ کیے گئے ہیں اور آخری میم (ایم) عربی لفظ مستقبل کا مخفف ہے۔

نیوم سعودی عرب کے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ان میں بحیرۂ احمر کا ترقیاتی منصوبہ اوردارالحکومت الریاض کے نزدیک القدیہ کا منصوبہ شامل ہیں۔ان سب کا مقصد سعودی عرب کی سیاحت کی صنعت کو فروغ دینا اور اس کی معیشت کو متنوع بنانا ہے تاکہ مملکت کا تیل کی آمدن پر انحصار کم سے کم کیا جاسکے۔

نیوم شہر صوبہ تبوک میں سعودی عرب ، مصر اور اردن کی سرحدوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ ساڑھے 26 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہوگا۔اس میں پہلا پرائیوٹ زون ہوگا جو تین ملکوں تک پھیلا ہوگا۔سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ نے اس شہر کو جدید انداز میں بسانے اور یہاں مختلف صنعتی زونوں کے قیام کے لیے 500 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کی ہے۔