.

خاشقجی قتل سے متعلق امریکی رپورٹ میں سیاسی مقاصد کے لیےردوبدل کیا گیا:سابق انٹیلی جنس چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر رچرڈ گرینیل نے قراردیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق جاری کردہ خفیہ رپورٹ میں سیاسی مقاصد کے لیے ردوبدل کیا گیا ہے۔

گرینیل نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’بائیڈن کی ٹیم کی طرف سے جاری کردہ خاشقجی رپورٹ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے،یہ بس مفت بری میں انٹیلی جنس کو نئے سرے سے پیک کرکے پیش کیا گیا ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے انٹیلی جنس معلومات میں قطع وبرید کی گئی ہے۔‘‘

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اگلے روز اس رپورٹ کو ڈی کلاسیفائی کیا ہے۔اس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر یہ الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے 2018ء میں خاشقجی آپریشن کی منظوری دی تھی۔اس کے نتیجے میں ترکی کے شہراستنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے میں جمال خاشقجی کا قتل ہوا تھا۔

سعودی عرب نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں امریکا کی جمال خاشقجی کے قتل کیس سے متعلق اس جائزہ رپورٹ کو منفی ، جھوٹ پر مبنی اور غلط قرار دے کر مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اس کے لیے بالکل ناقابل قبول ہے۔سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں کہاکہ اس رپورٹ میں نامکمل اور غلط معلومات ہیں اور ان کی بنیاد پر سعودی قیادت کے بارے میں غلط نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی پراسیکیوٹر نے 20 اکتوبر 2018ء کو استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں رونما ہونے والے واقعہ کے بعد کہا تھا کہ جمال خاشقجی قونصل خانے میں اپنے طلاق کے کاغذات کی تکمیل کے لیے گئے تھے۔اس دوران میں ان کی وہاں قونصل خانہ کے عملہ سے دوبدولڑائی ہوگئی تھی اور پھر ان کا قتل ہوگیا تھا۔

سعودی حکام نے 18 سعودیوں کو جمال خاشقجی کے قتل میں ملوّث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف سعودی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2019ء میں سی بی ایس کے پروگرام ’’60 منٹ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نائب سربراہ ریاست کی حیثیت سے جمال خاشقجی کے اندوہ ناک قتل کے واقعے کی’’مکمل ذمے داری‘‘ قبول کرتے ہیں لیکن انھوں نے خود پر اس الزام کی تردید کی تھی کہ انھوں نے اس کا حکم دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھاکہ ’’اگر سعودی حکومت کے حکام کسی سعودی شہری کے خلاف جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو ایک لیڈر کی حیثیت سے مجھے اس کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔یہ ایک غلطی تھی۔مجھے مستقبل میں ایسے کسی واقعہ کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے چاہییں۔‘‘