.

ترکی کے رویّے کے حوالے سے سنجیدہ اندیشے لاحق ہیں: نیٹو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینس اسٹالٹن برگ نے ترکی کے رویّے کے حوالے سے اپنے اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے باور کرایا کہ نیٹو اتحاد انقرہ سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

یورپی پارلیمان کے ارکان کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے اسٹالٹن برگ کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد اس حقیقت کو جانتا ہے کہ بعض فیصلوں کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے اختلافات موجود ہیں۔ ان میں ترکی کی جانب سے روس سے "ایس 400" دفاعی میزائل نظام کی خریداری یا ترکی میں جمہوری حقوق سے مربوط امور شامل ہیں۔

ترکی نے اپنے رویّے کے سبب 30 ممالک پر مشتمل نیٹو اتحاد میں اپنے متعدد حلیفوں کو چراغ پا کر دیا۔ اس کی وجہ یونان کے ساتھ سمندری حدود پر تنازع اور شام، لیبیا اور نگارنو کاراباخ میں تنازعات میں انقرہ کا خود کو ملوث کرنا ہے۔

یونان نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا تھا کہ ترکی وسائل کی دریافت سے متعلق بات چیت جاری رکھنے کے لیے اپنے نیک ارادوں کا اظہار کرے۔ یہ بات چیت کچھ عرصہ قبل شروع ہوئی تھی۔ یونان کے وزیر خارجہ نکوس ڈینڈیاس کے مطابق ان کا ملک ترکی کے ساتھ بات چیت کو سبوتاژ کرنے کے جال میں نہیں پھنسے گا۔

ترکی اور یونان کے درمیان تعلقات میں پانچ برس سے سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم رواں سال جنوری میں دونوں ملکوں کے ذمے داران نے ملاقات کی۔ اس کا مقصد سمندری سرحدی حد بندی کے حوالے سے دس برس سے جاری اختلاف اور بحیرہ روم کے مشرق میں توانائی کے ذرائع کی دریافت کے لیے کھدائی کے حقوق کو زیر بحث لانا تھا۔