.

یو اے ای اسرائیل میں انتخابات میں ’’اب یا کبھی‘‘ ملوث نہیں ہوگا: انور قرقاش 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ انورقرقاش نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل میں ہونےوالے انتخابات میں اب یا کبھی ملوث نہیں ہوگا۔

ان سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے یو اے ای کے مجوزہ دورے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تھا۔نیتن یاہو 2009ء سے برسراقتدار چلے آرہے ہیں اور وہ یو اے ای سمیت چار عرب ممالک سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے امن معاہدوں کو اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید کے مشیر انور قرقاش نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’یو اے ای کے نقطہ نظر سے ابراہام معاہدوں کا مقصد ریاست اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے بھر میں امن وخوش حالی کا فروغ ہے۔‘‘

انھوں نے مزید وضاحت کی ہے کہ ’’یو اے ای اسرائیل میں 23 مارچ کو ہونے والے داخلی انتخابات کا کسی بھی طرح حصہ نہیں ہوگا۔‘‘

یہ پہلا موقع ہے کہ یو اے ای کے کسی اعلیٰ عہدہ دار نے اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے اس طرح دوٹوک بیان دیا ہے۔انورقرقاش ماضی قریب میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی حیثیت سے یو اے ای کی خارجہ پالیسی کا چہرہ مہرہ اور ملک کے حقیقی ترجمان رہے ہیں اور بالعموم وہی خارجہ پالیسی پر بیانات جاری کیا کرتے تھے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے گذشتہ ہفتے اپنا ابوظبی کا طے شدہ دورہ عین وقت پر منسوخ کردیا تھا اور اس کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اردن کی فضائی حدود سے اپنا طیارہ گذرنے کی اجازت نہ ملنے پر یہ دورہ منسوخ کیا تھا۔

تاہم یو اے ای نے سرکاری طور پر اس دورے کی تصدیق نہیں کی تھی۔البتہ اس نے یہ کہا تھا کہ وہ اسرائیل میں تزویراتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے 10 ارب ڈالرز کے فنڈز مختص کررہا ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق یہ فیصلہ نیتن یاہو اور ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کے درمیان فون پر ’’تعمیری بات چیت‘‘ کے بعد کیا گیا تھا۔انھوں نے اس گفتگو میں کہا تھا کہ وہ جلد ایک دوسرے سے بالمشافہ ملاقات کریں گے۔

بدھ کو یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ نیتن یاہو دوبارہ یو اے ای کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کی جانب سے سرکاری طور پرابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔