.

یواے ای:فاصلاتی ورکروں کوراغب کرنے اورکثیر داخلے کے سیاحتی ویزوں کی منظوری 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی وفاقی کابینہ نے فاصلاتی پیشہ ورانہ کام کے ایک نئے نظام اور کثیرداخلے کے سیاحتی ویزے کی منظوری دی ہے۔اس کے تحت تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد یو اے ای میں داخل ہوسکیں گے۔

وفاقی کابینہ کے منظورکردہ نئے نظام کے تحت مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ورحضرات یو اے ای میں مقیم رہ کر بیرون ملک کمپنیوں یا فرموں کے لیے فاصلاتی کام کرسکیں گے۔امارت دبئی نے گذشتہ سال اکتوبرمیں ورچوئل ورک ویزا متعارف کرایا تھا۔

یو اے ای نے کووِڈ-19 کی وبا اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی کم قیمتوں کے بحران کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے دولت مند اور پیشہ ور غیرملکیوں کو راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات متعارف کرائے ہیں۔اماراتی کابینہ کے نئے فیصلے ان ہی کا تسلسل ہیں۔

یو اے ای کے نائب صدر اور حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اتوار کو ایک ٹویٹر پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’نیا ورک ویزا پیشہ ور ورکروں کے لیے ہوگا۔اس کے علاوہ کابینہ نے تمام قومیتوں کے لیے کثیر داخلہ کے سیاحتی ویزے کی بھی منظوری دی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم عالمی سطح پر اپنے اقتصادی درجہ کی ترقی کے لیے واضح مقاصد کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ ہم اپنے شہریوں اور مکینوں کو بہتر معیار زندگی مہیا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ یو اے ای کی 90 لاکھ سے زیادہ آبادی میں زیادہ تعداد غیرملکیوں کی ہے۔وہ مختلف پیشوں سے روزگار کے سلسلے میں وابستہ ہیں۔دبئی میں گذشتہ سال رئیل اسٹیٹ ،خدمات اورریٹیل سیکٹروں میں کام کرنے والے بہت سے غیرملکی بے روزگار ہوگئے تھے اور اپنے آبائی ممالک کو لوٹ گئے تھے۔

لیکن اب دبئی کی رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹ میں گذشتہ چند ماہ کے دوران میں ایک مرتبہ پھر بہتری آئی ہے اور سرمایہ کار کم قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

دریں اثناء دبئی کے ایوانِ صنعت وتجارت نے کہا ہے کہ یو اے ای کے ریٹیل سیکٹر میں اس سال میں 13 فی صد شرح نمو متوقع ہے اور 2021ء میں اس کا حجم 58 ارب ڈالر تک ہونے کی توقع ہے۔اس سال اکتوبر میں دبئی میں عالمی نمائش بھی منعقد ہوگی جس سے مختلف شعبوں میں خریدوفروخت میں اضافہ متوقع ہے۔