.

امریکا،ایران میں قیدی تبادلے کاکوئی سمجھوتا نہیں ہوا،جوہری مذاکرات الگ ہیں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کوئی سمجھوتا نہیں ہوا، جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات کا یرغمالیوں کی رہائی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بالکل الگ معاملہ ہیں۔

یہ بات وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے منگل کے روز ایک نیوزبریفنگ میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ایران میں زیرحراست امریکیوں کی وطن واپسی کا معاملہ بالواسطہ مذاکرات میں اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے۔اس موضوع پر ویانا میں جوہری مذاکرات سے الگ گفتگو کی گئی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اسی اختتام ہفتہ پر قیدیوں کے تبادلے سے متعلق منظرعام پرآنے والی رپورٹس درست نہیں ہیں۔ہم اس مسئلہ کو اجاگر کرتے رہے ہیں لیکن فی الوقت چار امریکیوں کی رہائی کے لیے کوئی سمجھوتا نہیں ہوا ہے۔‘‘

ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو لبنان سے نشریات پیش کرنے والے المیادین ٹی وی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران میں قید چار امریکیوں کی رہائی کے لیے ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے۔ان کے بدلے میں امریکا چار زیر حراست ایرانیوں کو رہا کردے گا اور امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے 7 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کردے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے سوموار کو اس سمجھوتے سے متعلق رپورٹ کی تردید کی تھی۔

واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس نے بھی اس اطلاع کی تردید کی تھی اور اس کے ردعمل میں کہا تھاکہ ’’قیدیوں کے تبادلے سے متعلق رپورٹس نادرست ہیں۔‘‘

ادھر ویانامیں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی اور اس میں امریکا کی واپسی کے بارے میں اپریل سے بات چیت جاری ہے۔اس میں امریکااور ایران کے مذاکرات کار بالواسطہ شریک ہیں۔ایران جوہری سمجھوتے کی بحالی اور اس کی شرائط کی پاسداری سے قبل امریکا سے تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے۔

یورپی ممالک ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی صرف اصل شکل میں بحالی چاہتے ہیں اور وہ ایران کی مشرقِ اوسط کے خطے میں دوسری سرگرمیوں پر زور نہیں دے رہے ہیں جبکہ امریکا خطے میں ایران کے تخریبی کردار کا بھی خاتمہ چاہتا ہے اور وہ اس سے متعلق بعض شقوں کا اضافہ چاہتا ہے۔

ایران ان مذاکرات میں اپنے منجمد فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کے تیل کی آمدن کی مد میں 20 ارب ڈالر جنوبی کوریا ، عراق اور چین ایسے ممالک میں منجمد پڑے ہیں۔ان ممالک نے نومبر 2018ء میں ایران کے خلاف امریکا کی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ان رقوم کو منجمد کرلیا تھا اور اب تک ایران کو یہ جاری نہیں کی ہیں۔