.

یمن : اغوا شدہ خاتون فیشن ماڈل کے وکیل کو حوثی ملیشیا کی دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صنعاء میں یمنی وکلاء کی انجمن نے حوثی ملیشیا کی جانب سے یمنی فیشن ماڈل اور فن کارہ انتصار الحمادی کے وکیل کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔ الحمادی کو رواں سال فروری میں جبری طور پر روپوش کیے جانے کے بعد حوثیوں کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔

وکلاء انجمن نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسے الحمادی کے وکیل اور قانونی مشیر ایڈوکیٹ خالد الکمال نے یہ اطلاع دی کہ صنعاء شہر کے وسط میں الرقاص کے علاقے میں انہیں اسلحے کے ذریعے ڈریا اور دھمکایا گیا۔ اس حرکت کا مقصد یہ ہے کہ الکمال اپنی مؤکلہ کا مقدمہ چھوڑ دیں۔

انجمن کے بیان میں ایڈوکیٹ الکمال کے خلاف اس اقدام کو احمقانہ حرکت اور مجرمانہ فعل قرار دیا گیا ہے۔ انجمن کے مطابق کسی بھی شخص کے دفاع کے لیے اس کا مقدمہ لڑنا یہ آئین اور قانون کی رُو سے ضمانت شدہ امر ہے ،،، اس سے ہٹ کر بات کرنا انسانی حقوق اور آزادی کو کو تلف کرنا ہے۔

انتصار الحمادی
انتصار الحمادی

وکلاء انجمن نے باور کرایا کہ ایڈوکیٹ الکمال کی زندگی کو پہنچنے والے کسی بھی ضرر کی ذمے داری حوثی ملیشیا کے زیر انتظام سیکورٹی اداروں پر عائد ہو گی۔

انتصار الحمادی 2001ء میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد یمنی اور والدہ ایتھوپیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ فیشن ماڈلنگ کے ساتھ ساتھ فلموں کے لیے بھی ماڈلنگ کرتی ہیں۔ انتصار نے 'سدالغریب' فلم سیریز اور 'غرابہ البن' نامی فلموں میں ‌بھی کردار نبھایا ہے۔

حوثی ملیشیا نے مختف الزامات کے تحت یمنی خواتین کے تعاقب کی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ ان میں زیادہ تر الزامات جعلی اور بے بنیاد ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹوں اور متاثرہ خواتین کی شہادتوں سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ حوثی ملیشیا غیر معقول اور عناد پر مبنی الزامات کے تحت سیکڑوں یمنی خواتین کو اغوا کر رہے ہیں۔ بعد ازاں ان خواتین کو تشدد اور عصمت دری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں متاثرہ خواتین کی عکس بندی بھی کر لی جاتی ہے تا کہ انہیں بلیک میل کیا جا سکے۔ یہ تمام عمل حوثیوں کے خواتین ونگ "الزینبیات" کے زیر نگرانی انجام پاتا ہے۔