.

یمن بحران کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کا موقف واضح‌ ہے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے اتوار کے روزایک بیان میں زور دے کر کہا ہے کہ یمن کے بحران کے سیاسی حل کے حوالے سے سعودی عرب کےموقف میں کوئی ابہام نہیں۔ سعودی عرب کایمن کے بحران کے حل کے حوالے سے موقف واضح‌ ہے۔

قبل ازیں ہفتے کے روز مسٹر بلنکن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن کے بحران کا سیاسی حل امریکا کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے یمن کے مسئلے کے حل کےلیے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ امریکا یمن کی حکومت کی طرف سے بحران کے سیاسی حل پر قائم رہنے کا خیر مقدم کرتی ہے۔
ادھرسعودی عرب کی طرف سے یمن میں جاری بحران کے حل کےلیے پیش کردہ اقدام پر سلامتی کونسل کے خیر مقدم کے بعد یورپی یونین نے بھی کہا ہے کہ وہ یمن میں جاری تنازع کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

اتوارکو ایک بیان میں یورپی یونین نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے یمن کے بحران کے حل کےلیے پیش کردہ اقدام کا اہم پہلو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی یمن میں جنگ بندی اور یمن کے فضائی اور بحری روٹس کھولنےکا اعلان ہے۔

یورپی یونین کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئندہ بدھ کو یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گریفیتھس متحارب یمنی فریقین سے بات چیت کے لیے یمن پہنچ رہے ہیں۔
ذرائع نے العربیہ اور الحدث ٹی وی چینل کے نامہ نگار کو بتایا کہ یو این ایلچی کے دورے کا مقصد یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے فریقین کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانا ہے۔

یمن کے ایک سینیر عہدیدار نے بتایا کہ گریفتھس اپنی ذمہ داری کی مدت ختم ہونے سے قبل اپنا فرض پوراکرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب کے امن اقدام کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

قبل ازیں امریکی وزارت خارجہ نےیمن کے تمام متحارب فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے پیش کردہ امن فارمولے کو آگےبڑھانے کے لیے تعاون کریں۔ امریکی وزارت خارجہ کےترجمانن سمویل وربیرگ نے کہا تھا کہ ان کا ملک یمن کی آئینی حکومت ک اور سعودی عرب کے پیش کردہ امن فارمولے کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے بحران کا حل انارکی نہیں بلکہ تمام فریقین کے درمیان بات چیت سے ممکن ہے۔
چند ماہ قبل سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے یمن کی جنگ کے خاتمے کی طرف اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے یمن میں جامع جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب کے اس اعلان پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا۔