.

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی سربراہ کا طالبان کی فتوحات پرانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی سربراہ ڈیبورا لیونزنے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران میں طالبان مزاحمت کاروں کی جنگی فتوحات پر خبردار کیا ہے اورمختلف محاذوں پر ان کی پیش قدمی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ڈیبورا لیونز نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک ویڈیو کانفرنس میں بتایا کہ کووِڈ-19 کی وبا اورانسانی ایمرجنسی سمیت جنگ زدہ ملک میں سیاست اور سیاسی عمل سب منفی یا جمود کا شکار ہیں۔طالبان کی حالیہ جنگی پیش رفت فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ان کی برسرزمین فتوحات ان کی ایک سخت فوجی مہم کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے طالبان کی اس فوجی مہم جوئی کو افسوس ناک لائحہ عمل قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مزاحمت کاروں نے ملک کے 370 اضلاع میں سے 50 پر قبضہ کر لیا ہے۔ان میں زیادہ تر اضلاع صوبائی دارالحکومتوں کے قرب وجوار میں واقع ہیں۔

لیونزنے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ طالبان غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد ان صوبائی دارالحکومتوں پرقابض ہونے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور وہ اپنے جنگجوؤں کی ان کے نزدیک صف بندی کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان نے اپنی لڑائی جاری رکھی اور تشدد طول پکڑتا ہے تو اس سے افغان عوام کے مصائب میں اضافہ ہوگا اور گذشتہ 20 سال کے دوران میں جو کچھ ترقی ہوئی ہے اور تعمیرکیا گیا ہے ،اس کابیشتر حصہ تباہ ہو جائے گا۔

انھوں نے قدامت پسند اور سخت گیرطالبان کی برسرزمین موجودگی پرخواتین کے حقوق کے حوالے سے خصوصی طورپر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ اس وقت سب سے زیادہ باعث تشویش معاملہ ہے اور اسے مذاکرات کی میز پرسودے بازی کی چِپ کے طور پراستعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس اجلاس میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا طالبان کے کابل اور افغان حکومت پر قبضے کو قبول نہیں کرے گی۔انھوں نے کہا کہ دنیا افغانستان میں طاقت کے ذریعے مسلط کردہ کسی بھی حکومت کوتسلیم کرے گی اور نہ اسلامی امارت کی بحالی کو تسلیم کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے؛وہ یہ کہ افغان قیادت میں اور افغان ساختہ عمل کے تحت مذاکرات کے ذریعے بحران کا ایک جامع مشمولہ حل تلاش کیا جائے۔‘‘