.

’اعتدال مرکز‘ کا انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی خاطر سعودی عرب میں قائم ’مرکز اعتدال‘ نے دنیا بھر میں انتہا پسندانہ رحجان کی روک تھام کے لیے کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہفتہ انسداد دہشت گردی برائے سال 2021ء کے موقع پر’مرکز اعتدال‘ کے سیکرٹری جنرل منصور الشمری نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک بڑی ورچوئل عالمی کانفرنس میں شرکت کی۔

الشمری نے گفتگو کرتے ہوئے انسداد انتہا پسندی کے لیے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں دنیا بھر کےممالک کے اداروں کی نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم سب ایک مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمارا واحد مقصد انتہا پسندی کا خاتمہ ہے کیونکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ایسے مظاہر اور رحجانات ہیں جو دنیا کے امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام میں رکاوٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کا خطرہ اس بات تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب اس خطرے کے خلاف ایک دوسرے کے دست وبازو بن جائیں۔

کرونا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش

منصور الشمری نے کہا کہ ہم عالمی مرکز برائے انسداد انتہا پسندی ’اعتدال‘ کے پلیٹ فارم سے عالمی برادری، عالمی تنظیموں اور حکومتوں کے ساتھ مل کر امن کے فروغ اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے سنہ 2017ء میں انسداد انتہا پسندی اور فروغ اعتدال پسندی مرکز تشکیل دے کر ثابت کیا ہے کہ عالمی سطح پر انتہا پسندانہ رحجانات سے نمٹنے کے لیے مملکت سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ ہمیں اس بات کا بھرپور احساس ہے کہ آنے والی نسلوں اور ان کے مستقبل کو بچانے کے لیے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بیخ کنی کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ کویڈ 19 کے نتیجےمیں پیدا ہونے والے حالات سے انتہا پسند گروپوں نے فائدہ اٹھانے کی کوششیں کیں۔ اس موقع پر انتہا پسند گروپوں نے متشدد افکار کو پھیلانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے تاہم عالمی سطح پر انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ہونے والی کوششوں کے نتیجے میں انتہا پسندی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔