.
افغانستان وطالبان

طالبان کے ترجمان کا غیرملکیوں کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے عام معافی کااعلان

افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی:ذبیح اللہ مجاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی نیوزکانفرنس میں سابق حکومت اور غیرملکیوں کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے عام معافی کااعلان کیا ہے اور افغانستان کو محفوظ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے کوئی انتقام نہیں لیا۔اب خواہ کسی نے سابق حکومت یا غیرملکی حکومتوں یا افواج کے ساتھ مل کر کام کیا ہے، توان سب کے لیے عام معافی ہے۔

انھوں نے بالخصوص ماضی میں افغانستان میں امریکا کی مسلح افواج کے ساتھ ترجمان کے طورپر کام کرنے والے افغانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ’’کوئی بھی آپ کے دروازوں پر یہ پوچھنے کے لیے نہیں جائے گا کہ آپ نے غیرملکیوں کی مدد کیوں کی تھی؟‘‘

ذبیح اللہ مجاہدنے خواتین کے حقوق کے احترام کا وعدہ کیا اور کہا کہ انھیں اسلامی شریعت کے اصولوں کے تحت تمام حقوق حاصل ہوں گے۔

انھوں نے یہ وضاحت طالبان کے پہلے دورحکومت میں خواتین کی زندگیوں،تعلیم اور حقوق پر عاید کردہ پابندیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے تناظر میں کی ہے۔تب خواتین پر کسی مرد رشتہ دار کے بغیر گھروں سے باہر جانے پر پابندی عاید تھی۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ طالبان نجی میڈیا کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں لیکن صحافیوں کو بھی افغانستان کی قومی اقدار کے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ افغانستان کی سرزمین کو دوسری اقوام کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انھوں نے غیرملکی اقوام سے کہا ہے کہ اگر ان کے کوئی تحفظات ہیں تو وہ اس ضمن میں طالبان سے براہ راست بات کریں۔

واضح رہے کہ 29 فروری 2020ء کو دوحہ میں امریکا کی سابق ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان طے شدہ معاہدے کی ایک اہم شق یہ تھی کہ افغان سرزمین کو امریکا یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسی سمجھوتے کےنتیجے میں موجودہ صدر جو بائیڈن کے دور میں افغانستان سے امریکی فوج کا حتمی انخلا ہوا ہے۔

بہت سے افغان ہنوز اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ افغانستان میں ایک مرتبہ پھر طالبان کا سابقہ دور لوٹ آئے گا اوروہ دوبارہ سخت انداز میں قوانین کا نفاذ کریں گے۔ان کے دوران میں خواتین اور دوسرے گروپوں کے حقوق کو پھر پامال کیا جاسکتا ہے جبکہ طالبان کے ترجمان بار بار ان کے خدشات کو دورکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ غیرملکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے وعدوں کے ایفاہونے کا انتظار کریں گے کہ آیا وہ اپنی کہی ہوئی باتوں پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

طالبان نے گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران میں ملک کے بیشتر علاقوں پر کسی لڑائی کے بغیرکنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ان کی تیز رفتار پیش قدمی کے بعد افغان صدراشرف غنی گذشتہ اتوار کو کابل سے بیرون ملک چلے گئے تھے اور پھرطالبان صدارتی محل میں داخل ہوگئے تھے۔انھوں نے تمام سرکاری تنصیبات اور عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔طالبان کی قیادت نے اپنے جنگجوؤں کوکابل میں شہریوں کے جان ومال اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کی ہدایت کی تھی۔

قبل ازیں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ پُرامن انتقال اقتدار چاہتے ہیں اور وہ ایک ایسی مشمولہ نئی حکومت چاہتے ہیں جس میں تمام افغان گروپوں کی نمایندگی ہو۔وہ خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں اور ان کی نئی حکومت میں انھیں تعلیم اورکام کی آزادی ہوگی۔