.

طالبان پراعتبار نہیں، افغانستان سے مکمل انخلا خطرناک ہو گا: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کرنے کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ اگلے ہفتے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں سفارتی موجودگی برقرار رکھے گا یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس میں بریفینگ کے دوران پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا تھا ’میں واضح کرنا چاہتی ہوں امریکہ یا اس کا کوئی بھی بین الاقوامی حلیف جس سے ہم نے بات کی ہے کو انہیں تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ۔‘

امریکی C17 جہاز میں سوار غیر ملکی اور افغان مہاجرین اپنی منزل کے جانب روانہ ہیں۔
امریکی C17 جہاز میں سوار غیر ملکی اور افغان مہاجرین اپنی منزل کے جانب روانہ ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں طالبان اور امریکی فوج کے درمیان ہم آہنگی کے بارے میں پوچھے جانے پر پریس سیکرٹری کا کہنا تھا ’یہ دنیا کی واحد جگہ نہیں ہے جہاں ہم مخالفین کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے امریکا یا اس کے اتحادیوں کی طرف سے طالبان حکومت کو فوری تسلیم کرنے کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "میں بالکل واضح کرنا چاہتی ہوں کہ امریکا یا اس کے بین الاقوامی اتحادی طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں عجلت نہیں دکھائیں گے‘‘۔

ساکی نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اور ہمارے فوجی ابھی تک زمین پر موجود ہیں۔

کابل میں حامد کرزئی ائرپورٹ پر بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے شخص کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
کابل میں حامد کرزئی ائرپورٹ پر بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے شخص کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن جمعرات کو کابل ائیر پورٹ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو مارنے کے لیے پرعزم ہیں۔ صدر بائیڈن نے زور دے کر کہا تھا کہ وہ کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والوں کو زمین پر نہیں رہنے دیں گے۔ انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔

جہاں تک امریکی ملکی سیاست کا تعلق ہے توجین ساکی نے کہا کہ یہ وقت متعصبانہ جھگڑوں کا نہیں ہے۔ دہشت گردوں کو سزا دینے کے فیصلے کی حمایت کی جانی چاہیے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو کابل ہوائی اڈے کے باہر ہونے والے خونی دھماکوں کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا کہ اگلے چند دن مزید خطرناک ہو سکتے ہیں اور دہشت گرد مزید حملے بھی کرسکتے ہیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خراسان گروپ نے قبول کی تھی۔