" آٹھ برس کی عمر تک میں شام میں قدرتی اور مسرور بچپن گزار رہا تھا ... شام خوب صورت تھا اور میں وہاں اپنے گھرانے کے ساتھ سادہ سی زندگی گزار رہا تھا" ..... یہ وہ الفاظ ہیں جن کے ذریعے 19 سالہ شامی نوجوان محمد نجم نے جنگ سے پہلے شام میں معمول کی زندگی کو بیان کیا۔
امریکی جریدے "نیوز ویک" میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق نجم نے واضح کیا کہ شام میں انسانی زندگی 2011ء میں دشوار ہو گئی۔ نجم نے بتایا کہ ملک بم باری ، گولا باری ، میزائلوں ، راکٹوں اور کیمیائی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ دمشق کے مشرق میں واقع غوطہ میں کیمیائی حملوں میں بچوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔
We know that you got bored from our blood pictures
— Muhammad Najem (@muhammadnajem20) January 15, 2018
But We will continue appealing to you
Bashar Al-assad, potin and khaminei killed our childhood
Save us before it is too late
What is the world, which can send machines to the martian and can't do anything to stop killing people pic.twitter.com/QtVVWidkzx
تعلیم کا سلسلہ رک جانے اور اسکولوں کو جانا دشوار ہو جانے کے سبب نجم نے تقریبا دو سال تک پناہ گاہ میں پڑھائی کے اسباق لیے۔
نجم کے مطابق 2015ء میں ایک دھماکے میں اس کے والد ہلاک ہوئے تو نجم کی عمر 13 برس تھی۔ نجم نے بتایا کہ اس کا بھائی ایک صحافی ہے اس واسطے نجم نے بھی جنگ کے دوران میں زمینی رپورٹر کے طور پر کام میں دل چسپی کا اظہار کیا۔ وہ اس بات کا خواہش مند تھا کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دنیا کے سامنے پیش کرے۔
اس طرح نجم نے وڈیو کلپوں (سیلفی) کے ذریعے سوشل میڈیا پر شام میں جنگ کے احوال اور خبریں دنیا کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیں۔
نجم دنیا بھر میں اس جنگ کے بارے میں لکھنے والا سب سے کم عمر فرد بن گیا۔ تاہم 2018ء میں وہ پناہ گزین کے طور پر ترکی منتقل ہونے میں کامیاب رہا۔ شام میں موجود لوگوں نے نجم کے ساتھ وڈیو کلپوں کو شیئر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
'I Was a Syrian War Reporter at 15, Now I'm Working With Angelina Jolie To Help Children' The road may be a little long, but we will reach the end of it no matter how long it takes, and every child will have his right to this planet https://t.co/yNxF7CZIpz
— Muhammad Najem (@muhammadnajem20) September 7, 2021
نجم کے مطابق اس کے وڈیو کلپوں کے وسیع پیمانے پر پھیل جانے کے بعد سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
نجم نے بتایا کہ اس نے "زووم" کے ذریعے ہالی وڈ اداکارہ انجلینا جولی کے ساتھ دو مرتبہ بات چیت کی۔ نجم کا کہنا ہے کہ "انجلینا ایک عظیم انسان ہیں۔ میں ان سے اس واسطے متاثر ہوا کہ وہ بھی بچوں کی مدد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان سے بات چیت کرنا ایک شان دار تجربہ تھا۔ انجلینا اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ کام کرنا میں کبھی نہیں بھول سکتا"۔
اپنی گفتگو کے آخر میں نجم نے امید ظاہر کی کہ وہ شام کی تعمیر میں شریک ہونا چاہتا ہے اور یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند ہے