.

یمن میں ایران کےحمایت یافتہ حوثیوں کا مخا کی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ

حوثیوں کی گولہ باری سے امدادی تنظیموں، تاجروں اور درآمد کنندگان کے گوداموں کا شدید نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران کی حمایت حوثی ملیشیا نے مخا کی بندرگاہ پرمیزائلوں سے حملہ کیا ہے۔جنگ سے تباہ حال یمن میں اسی بندرگاہ کے ذریعے بیرونی دنیا سے امدادی سامان پہنچتا ہے۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں پراس میزائل حملے کا الزام عاید کیا ہے۔یمن کے جنوب مغرب میں بحیرہ احمرکے کنارے واقع مخا کی بندرگاہ خطے میں سرکاری افواج کا صدرمقام بھی ہے۔

ایک سرکاری فوجی عہدہ دار نے اے ایف پی کوبتایا کہ باب المندب کے نزدیک واقع مخا کی بندرگاہ کو تین میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مخا کی بندرگاہ پر حوثیوں کی گولہ باری سے امدادی تنظیموں، تاجروں اور درآمد کنندگان کے گوداموں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔یمن کے مغربی ساحل پر سرگرم مشترکہ فورسز نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے مخا کی تجارتی بندرگاہ پر گولہ باری سے بندرگاہ کو بھی نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حوثی ملیشیا نے تجارتی بندرگاہ کو چارمیزائلوں اور تین ڈرونوں سے نشانہ بنایا ہے۔مشترکہ فورسز نے یہ بھی بتایا کہ مخا کی تجارتی بندرگاہ کی حدود میں حوثی ملیشیا کے دو ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا گیا ہے۔

یمنی وزیراطلاعات معمر الآریانی نے کہا ہے کہ یہ حملہ 11 ستمبرکوامریکا پردہشت گردحملوں کی برسی کے موقع پرکیاگیا ہے اور یہ اس بات کا اعادہ ہے کہ حوثی ملیشیا ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور یہ القاعدہ اورداعش سے مختلف نہیں ہے۔

جزیرہ نما عرب کا غریب ترین ملک یمن گذشتہ سات سال سے جاری جنگ کی وجہ سے تباہ حال ہوچکا ہے۔اس میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کوحکومت کے خلاف کھڑا کیاگیا ہےجسے عرب اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔

سرکاری عہدہ دار نے بتایا کہ مخا بندرگاہ تعمیرنواور تزئین وآرائش کے کام کے بعدایک ماہ قبل تجارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ کھول دی گئی تھی۔اس کے نزدیک واقع آبنائے باب المندب یمن اور جیبوتی کے درمیان حد فاصل ہے اور بین الاقوامی تجارت، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی کا ایک اہم راستہ بھی ہے۔

واضح رہے کہ قریباً 80 فی صد یمنیوں کا اس وقت بیرونی امداد پرانحصار ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن کواب دنیا کے بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں یمنی بے گھرہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں 2021 میں ایک بڑے قحط کا سامنا ہوسکتا ہے۔اقوام متحدہ نے یمن کی امداد کے لیے 3.85 ارب ڈالر کی اپیل کی تھی لیکن اس میں سے صرف 1.7 ارب ڈالر جمع ہوسکے تھے۔