.
افغانستان وطالبان

قطری وزیرخارجہ کا طالبان کےقبضےکے بعد دورۂ کابل،افغان قیادت سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے وزیرخارجہ اور نائب وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے اتوار کے روز افغانستان کے دارالحکومت کابل کا مختصر دورہ کیا ہے۔15 اگست کو طالبان کے ملک پرقبضے کے بعد وہ کابل کا دورہ کرنے والے دنیا کے پہلے سینیرسفارت کار ہیں۔

طالبان کے ایک عہدہ دار نے ٹویٹ میں بتایاکہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے نئی افغان حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کی ہے لیکن اس میں ہونے والی بات چیت کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

انھوں نے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی ہے۔طالبان نے شیخ محمد کی نئے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات کی تصاویر جاری کی ہیں۔ان کی سابق صدرحامد کرزئی کے ساتھ ملاقات کی تصویر بھی سوشل میڈیا پرگردش کررہی تھیں۔

قطرایک طویل عرصے سے افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ثالث کا کردارادا کرتا رہا ہے اوراس نے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔

وہ ان ہزاروں افغانوں کی بھی میزبانی کررہا ہے جنھیں امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ اگست کے آخری ہفتے میں افغانستان سے نکالا گیا تھا۔قطر میں ان کے کاغذات کی تکمیل کے بعد انھیں بتدریج دوسرے ممالک میں روانہ کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان چھوڑکرجانے والے قریباً 43,000 افراد نے قطرمیں راہداری قیام کیا ہے اور پھروہاں سے انھیں امریکا یا دوسرے ممالک میں منتقل کیا جارہا ہے۔ان میں امریکی فوجیوں اور شہریوں کے علاوہ افغان شہریوں کی کثیرتعداد شامل ہے۔

ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان کی نئی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔یادرہے کہ صرف تین ممالک نے 1996سے2001ءتک ان کی پہلی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔یہ تینوں ممالک پاکستان ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تھے۔