.

سعودی عرب:4۰5ارب ڈالرکی منی لانڈرنگ کے مقدمے میں گینگ کے 24 ارکان کوقید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک اعلیٰ عدالت نے ساڑھے چارارب ڈالر کے کالے دھن کو سفید کرنے کے مقدمے میں ماخوذ گینگ کے 24 ارکان میں سے ہر ایک کو 20 سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

اس گینگ میں سعودی شہری اور تارکین وطن دونوں شامل ہیں۔عدالت نے انھیں ایک کروڑ99 لاکھ ڈالر جرمانہ بھی کیا ہے اورجائے وقوعہ سے ملنے والی تمام رقم حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کی مالیت اربوں سعودی ریال بنتی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق الریاض کی اپیل کورٹ نے اس مقدمے میں سزایافتہ سعودی شہریوں پرقید کی مدت پوری ہونے کے بعد 20 سال تک بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی ہے اورتارکین وطن کو جیل کی سزائیں پوری ہونے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ گینگ ایک منظم فریم ورک کے تحت مجرمانہ کارروائیاں انجام دیتا رہا ہے۔اس نے تجارتی اداروں ،فیکٹریوں ، کمپنیوں ، اداروں اور طبی کلینکوں کے دھندے میں کالے دھن کو سفید کیا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس گینگ کے ارکان منی لانڈرنگ کے دھندے میں کئی طریقوں سے ملوّث رہے ہیں۔وہ رقوم اکٹھی کرکے بنکوں میں جمع کراتے تھے اور پھرانھیں بیرون ملک منتقل کردیتے تھے تاکہ ان کی یہ تمام کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔

سعودی عرب کی انسداد بدعنوانی اتھارٹی (نزاہۃ)نے حالیہ مہینوں کے دوران میں منی لانڈرنگ ،بدعنوانیوں، فراڈ اور رشوت ستانی میں ملوّث بیسیوں افراد اور اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں،ان کے خلاف تحقیقات کی تکمیل کے بعد ان پرعدالتوں میں مقدمات چلائے گئے ہیں یا چلائے جا رہے ہیں۔