.

حزب اللہ پر پابندیاں عدم استحکام سے متعلق اس کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان جیرالڈن گریفتھس نے باور کرایا ہے کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر پابندیاں اس کی جانب سے عدم استحکام سے متعلق سرگرمیوں کے سبب عائد کی گئی ہیں۔ یہ بات لبنانی سیٹلائٹ چینل "وائس آف بیروت انٹرنیشنل"SBI نے بتائی۔

اتوار کے روز گریفتھس کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے خلاف پابندیاں صرف امریکا تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری عالمی برادری کا مسئلہ ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایران سے تیل کی درآمد اور مشتبہ سرگرمیاں لبنان کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

گریفتھس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے حزب اللہ پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں تا کہ اسے لبنان کے وسائل کے استحصال سے روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم حزب اللہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے پر کاربند ہیں"۔

خاتون ترجمان نے واضح کیا کہ "ہمارے لیے جو بات اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ لبنان میں ایک ایسی حکومت ہو جو اپنا کردار ادا کرنے اور اصلاحات پر عمل درامد کی قدرت رکھتی ہو۔ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ کئی برسوں کی بدعنوانی اور وسائل کی بد انتظامی کے نتیجے میں لبنان توانائی کے کس سنگین نوعیت کے بحران سے دوچار ہے"۔

جمعے کے روز امریکا نے حزب اللہ سے تعلق کے حامل متعدد افراد پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری پوسٹ میں واضح کیا گیا کہ بیرونی اثاثوں کی نگرانی سے متعلق بیورو(OFAC) نے مذکورہ مالیاتی نیٹ ورک کے ارکان کا تعین کیا۔ اس کے دفاتر لبنان اور کویت میں ہیں۔ ان افراد نے کروڑوں ڈالر کی منی لانڈرنگ انجام دی۔ مزید یہ کہ حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے واسطے کرنسیوں کے تبادلے اور سونے کی تجارت سے متعلق سرگرمیاں بھی انجام دیں۔