.

سعودی عرب کے ساتھ عسکری شراکت داری ہمارے اسٹریٹجک مفاد میں ہے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نائب وزیر خارجہ جوری ہڈ نے ’’العربیہ‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکی فوجی شراکت داری اس کے اسٹریٹجک مفاد میں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے سکیورٹی انتظامات اور سعودی عرب جیسے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہماری فوجی شراکت داری کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہم نے اس عزم کو واضح کر دیا ہے اور ہم مملکت کے دفاع میں مدد کرتے رہیں گے۔ ہم نے سنہ 1940 کی دہائی میں صدر روز ویلٹ اور شاہ عبدالعزیز کی ’یو ایس ایس کوئنسی میں سوار ہونے کے بعد آج تک وہی کچھ کیا جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ ہم اسے اپنے اسٹریٹجک مفاد میں دیکھتے ہیں۔ یہی پیغام امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے خلیج تعاون کونسل کے وزرا خارجہ اجلاس کو بھی بھیجا تھا جب وہ ایک اجلاس میں جمع تھے۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم نے ’جی سی سی‘ ممالک کے ساتھ ایران کے ساتھ اپنے چیلنجوں کے بارے میں بات کی جس سے ہم فی الحال جوہری معاہدے کی مکمل تعمیل کی ضمانت چاہتے ہیں کیونکہ ہم اس وقت تہران سے نمٹنے کے سفارتی آپشن پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ ہم نے ایران کے چیلنجوں اور اس کی طرف سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی بات کی۔ ہم نے عراق کے خطے میں عرب دُنیا میں دوبارہ انضمام کے بارے میں بھی بات کی۔ اس میں بہت سی پیش رفت ہوئی ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اس پیش رفت کو اور آگے بڑھانا چاہیے۔

یمن میں جنگ بندی پر زور

امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو اپنی ہی قوم پر مسلط کی گئی جنگ روکنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے حوثی لیڈر شپ پراقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں۔

ہوڈ نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام سے مآرب اور اس کے آس پاس لڑ رہی ہے۔ اسے روکنا ہو گا۔ یمنی حکومت کو اپنے لوگوں کے مطالبات کو پورا کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اس کے بارے میں جو کہوں گا وہ یہ ہے کہ ہم ویانا میں مذاکرات میں واپس آنے کے لیے تیار ہیں جیسے ہی ایرانی مشترکہ اور جامع ایکشن پلان میں شامل ہوں گے ہم بات چیت کے لیے تیار ہوں گے، جیسا کہ وزیر خارجہ بلینکن نے واضح کیا ہے۔ ہم ایران کا غیر معینہ مدت تک انتظار نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہم ایرانیوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ جلدی ویانا کا رخ کریں۔

ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجوہات کے بارے میں ’’العربیہ‘‘ کے ایک سوال کے جواب میں مسٹر ہڈ نے کہا کہ آپ کو ایرانیوں سے پوچھنا ہوگا کہ کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہوئی کیونکہ ہم ان کے ویانا واپس آنے کا انتظار کر رہے ہیں اور ہم نے اس حقیقت کو چھپایا نہیں ہے۔ ہمیں خطے اور دنیا بھر کے بہت سے ممالک کو بھی خطے میں ایران کی طرف سے ملیشیاؤں کی حوصلہ افزائی، مالی اعانت، انہیں مسلح کرنے اور کمرشل بحری جہازوں پر خدشات ہیں

ہڈ نے مزید کہا کہ اگر تہران کو ایٹمی ہتھیار ملتے ہیں تو یہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگا۔ لہذا ہمیں ایٹمی پروگرام کو ایک واضح سول راستے پر واپس لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ہم عالمی برادری کے ان خدشات کو دور کریں۔

امریکی عہدیدار نے کہا "میں نہیں جانتا کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو گئے تو صدر بائیڈن کے آپشنز کیا ہیں؟ اور جس پر ہم اب توجہ مرکوز کر رہے ہیں وہ ہے خطے میں سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنا ہے۔ ہم ایرانیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ صرف ٹی وی کیمروں کے آگے نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ویانا بھی ٹھوس بات چیت کریں۔