.

امریکی بحریہ کاجوہری انجینیر اہلیہ سمیت جاسوسی کے الزام میں گرفتار،فردِجرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک جوہری انجینیراوراس کی اہلیہ پر جوہری طاقت کے حامل جنگی بحری جہازوں کے بارے میں معلومات کسی دوسرے ملک کو فروخت کرنے کی کوشش کے الزام میں فردجرم عاید کردی گئی ہے۔

ریاست میری لینڈ کے شہرایناپولس سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ جوناتھن ٹوئب نے اپنی اہلیہ 45 سالہ ڈیانا کی مدد سے قریباً ایک سال قبل جوہری طاقت کے حامل جنگی جہازوں کے ڈیزائن سے متعلق معلومات ایک ایسے شخص کو فروخت کی تھیں جس کے بارے میں ان کاخیال تھا کہ وہ کسی غیر ملکی طاقت کا نمایندہ ہے۔

لیکن درحقیقت وہ شخص امریکا کے وفاقی ادارہ تحقیقات(ایف بی آئی) کا ایک خفیہ ایجنٹ تھا۔اس جوڑے نے ہزاروں ڈالرمالیت کی کرپٹوکرنسی کے بدلے میں ڈیٹا فروخت کرنے پرآمادگی ظاہر کی تھی اور ایک خفیہ آپریشن کے نتیجے میں ٹوئب نے مونگ پھلی مکھن سینڈوچز اور چیونگم پیکجزمیں چھپے میموری کارڈز کو طے شدہ جگہوں پر رکھ دیا تھا جہاں اسے اس خفیہ ایجنٹ نے اٹھا لیا تھا۔ان میموری کارڈز میں خفیہ آبدوزری ایکٹروں کے بارے میں تفصیل موجود تھی۔

ٹوئب پرجوہری توانائی ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔امریکا کے اٹارنی جنرل میرک بی گارلینڈ نے کہا کہ مجرمانہ شکایت میں ہماری جوہری آبدوزوں کے ڈیزائن سے متعلق معلومات کسی غیرملک کو منتقل کرنے کی سازش کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی، محکمہ انصاف کے استغاثہ، نیول کرمنل انویسٹی گیٹو سروس اور محکمہ توانائی نے مشترکہ طور پراس سازش کو ناکام بنانے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایف بی آئی کے ایک حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ یکم اپریل 2020ءکو جوناتھن ٹوئب نے مبیّنہ طور پرایک غیر ملکی حکومت کو ایک پیکیج بھیجا تھا جس میں پٹسبرگ، پنسلوانیا کا واپسی کا پتا درج کیا گیا تھا۔اس میں محدود ڈیٹا کا نمونہ اور اضافی محدود ڈیٹا خریدنے کے لیے خفیہ تعلقات قائم کرنے کی ہدایات شامل تھیں۔

حلف نامے میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ٹوئب نے پھر ایک فرد کے ساتھ خفیہ برقی مراسلت شروع کی تھی۔اس کو وہ غیر ملکی حکومت کا نمائندہ سمجھتے تھے لیکن وہ ایف بی آئی کا ایجنٹ نکلا۔

ٹوئب نے یہ برقی مراسلت کئی ماہ تک جاری رکھی۔اس کے نتیجے میں ان کے درمیان کرپٹوکرنسی میں ہزاروں ڈالر کے عوض محدود ڈیٹا فروخت کرنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔8جون 2021 کو خفیہ ایجنٹ نے جوناتھن ٹوئب کو’’نیک نیتی‘‘کے طور پر 10,000 ڈالرکرپٹوکرنسی کی شکل میں بھیجے تھے۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد 26 جون کو جوناتھن اور ڈیانا ٹوئب نے مغربی ورجینیا کے ایک مقام کا سفرکیا۔ وہاں،جوناتھن نے ڈیانا ٹوئب کے ساتھ جھوٹ موٹ میں کچھ تلاش کرنے کے انداز میں ایک ایس ڈی کارڈ رکھا تھا۔ وہ پہلے سے طے شدہ ’’ڈیڈ ڈراپ‘‘ مقام پرمونگ پھلی مکھن کے آدھے سینڈوچ کے اندرچھپایا گیاتھا۔

ایس ڈی کارڈ وصول کرنے کے بعد خفیہ ایجنٹ نے جوناتھن ٹوئب کو 20 ہزار ڈالرکی کرپٹو کرنسی بھیجی۔اس کے بدلے میں جوناتھن ٹوئب نے خفیہ ایجنٹ کو ایس ڈی کارڈ کی ڈیکرپشن کلید ای میل کی تھی۔ اس ایس ڈی کارڈ کے جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ اس میں آبدوز کے جوہری ری ایکٹروں سے متعلق ریاستی رازموجود تھے۔

28اگست کو جوناتھن ٹوئب نے مشرقی ورجینیا میں ایک اور ایس ڈی کارڈ کا ’’ڈیڈ ڈراپ‘‘کیا۔اس بار کارڈ کو چیونگم پیکج میں چھپایا گیا۔ایف بی آئی ایجنٹ نے اس کے بدلے میں ٹوئب کو کرپٹو کرنسی میں 70,000 ڈالر ادا کیے تھے۔اس کے بعد ایجنٹ کو کارڈ کی ڈیکرپشن کلید موصول ہوگئی تھی۔اس میں آبدوز کے جوہری ری ایکٹروں سے متعلق محدود ڈیٹا بھی شامل تھا۔

ایف بی آئی نے 9 اکتوبر کوجوناتھن اور ڈیانا ٹوئب کواس وقت گرفتارکرلیا تھا جب انھوں نے مغربی ورجینیا میں ایک دوسرے مقام پر پہلے سے طے شدہ ’’ڈیڈ ڈراپ‘‘پرایک اور ایس ڈی کارڈ رکھا تھا۔انھیں منگل کو مغربی ورجینیا کے شہر مارٹنزبرگ میں ایک وفاقی عدالت میں کیس کی ابتدائی سماعت کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

ٹوئب امریکی محکمہ بحریہ کا ملازم ہے۔اس نے نیوکلیئر انجینئر کے طورپر خدمات انجام دیں اور اسے نیول نیوکلیئر پروپلشن پروگرام میں ذمے داری تفویض کی گئی تھی۔اس کو نیول ری ایکٹر بھی کہا جاتا ہے۔اس نے امریکی محکمہ دفاع کے ذریعے قومی سلامتی کی فعال کلیئرنس حاصل کی تھی اوراس کو محدود اعداد و شمار تک رسائی بھی دی گئی تھی۔

ٹوئب بحری جوہری پروپلشن سے متعلق معلومات بشمول فوجی حساس ڈیزائن عناصر، جوہری طاقت سے چلنے والے جنگی جہازوں کے ری ایکٹروں کے آپریٹنگ پیرامیٹرز کے ساتھ کام کرچکا ہے اور اس کو ان تک رسائی حاصل تھی۔