.
افغانستان وطالبان

طالبان وفد کی اُزبک حکام سے دوطرفہ تجارت اورانسانی امداد کی ترسیل پربات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے نئے حکمران طالبان کے نمائندوں نے ہفتے کے روز ہمسایہ ملک اُزبکستان کا دورہ کیا ہے اور اس کے اعلیٰ حکام سے انسانی امداد کی ترسیل اور دوطرفہ تجارت کے فروغ پربات چیت کی ہے۔

طالبان نے اگست میں امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے بعد جنگ زدہ افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا۔ انھوں نے تب سے اپنی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رکھی ہیں اور عالمی برادری سے ملک میں بڑے انسانی المیے سے بچنے کے لیے خطیر مالی امداد کے خواہاں ہیں۔

طالبان وفد نے ازبکستان کے سرحدی قصبے ترمذ میں میزبان اعلیٰ حکام سے ملاقات کی ہے۔اس میں سخت گیر گروپ کے وفد کی قیادت نائب وزیر اعظم ملّاعبدالسلام حنفی کر رہے تھے اور ازبک وفد کی قیادت ان کے ہم منصب سردار مرزاکوف نے کی۔

ترمذ مال بردار طیاروں کے ذریعے افغانستان کے لیے بھیجی جانے والی بین الاقوامی انسانی امداد کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اورسابق سوویت جمہوریہ خود کوجنگ زدہ افغانستان اور دنیا کے باقی ملکوں کےدرمیان ایک پل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

ازبک وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ملاقات میں تجارت اور اقتصادی تعامل، سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے، توانائی کے شعبے میں تعاون، بین الاقوامی نقل وحمل اور سرحدی راہداری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کے امور کی ذمے دارایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے رواں ہفتے کہا تھا کہ مستقبل قریب میں انسانی امداد کی تین کھیپوں کو ترمذ پہنچایا جائے گا اور پھر اس امدادی سامان کو ٹرکوں کے ذریعے افغانستان میں منتقل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اُزبکستان اور اس کے ساتھ واقع ترکمانستان نے ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اُبھرنے کے بعد ایک عملی حکمت عملی اختیار کی ہے اور دونوں ملکوں کی حکومتوں نے حالیہ برسوں میں اس گروپ کے ساتھ براہِ راست چینل قائم کیے ہیں تاکہ سرحد پار بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ٹھیکے حاصل کیے جاسکیں۔تاہم ان کے ساتھ وسط ایشیا میں واقع تیسرے ملک تاجکستان نے طالبان سے سرکاری سطح پر باضابطہ مذاکرات سے گریز کیا ہے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں طالبان نے قطر میں امریکا اور یورپی یونین کے مشترکہ وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے تھے اور برسلز (یورپی تنظیم کے صدر مقام) نے افغانستان کے لیے ایک ارب یورو (1.2 ارب ڈالر) کی امداد مہیّا کرنے کاوعدہ کیا تھا۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے گذشتہ جمعرات کو انقرہ میں ترک ہم منصب مولود شاوش اوغلو سے بات چیت کی تھی۔اس کے بعد شاوش اوغلو نے دنیا کی حکومتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے افغانستان کے غیرملکی اکاؤنٹس کو غیر منجمد کریں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ترکی ابھی تک اس گروپ کی حکومت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں