.

"قومی یک جہتی" کی حکومت کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی "قومی مکالمے" کی مشاورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی نے داخلی انقسام ختم کرنے اور ایک "قومی یک جہتی" کی حکومت تشکیل دینے کے واسطے تمام فلسطینی گروپوں کے ساتھ "قومی مکالمے" کے آغاز کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ان گروپوں میں 'حماس' اور 'جہاد اسلامی' تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اتوار کے روز تنظیم آزادی فلسطین اور فتح موومنٹ کی مجالس عاملہ کے ارکان ، تنظیم آزادی فلسطین تنظیم کے ذیلی گروپوں کے جنرل سکریٹریوں، آزاد شخصیات اور سیکورٹی فورسز کی قیادت سے ملاقات کی۔ ملاقات میں متعلقہ اقدامات کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی "وفا" کے مطابق صدر عباس نے واضح کیا کہ قومی یک جہتی کی حکومت اپنے شراکت داروں کو بین الاقوامی قانون کا پابند بنائے گی، وطن کے دونوں حصوں کو یکجا کرے پر کام کرے گی اور غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر عائد محاصرہ ختم کرنے پر کام کرے گی۔

رواں سال فلسطینی داخلی انقسام کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں دیکھنے میں آئیں۔ ان میں آخری کوشش گذشتہ ماہ ستمبر میں تھی۔ مصری صدر عبد الفتاح السيسی نے قاہرہ میں اردن کے شاہ عبد الله الثانی اور فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ سہ فریقی سربراہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کا مقصد فلسطین کا قضیہ اور قومی یک جہتی کی حکومت کی تشکیل کو زیر بحث لانا تھا۔

اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں فلسطینی صدر نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقی بیت المقدس میں امریکی قونصل خانے اور واشنگٹن میں PLO کے مشن کے دفتر کے دوبارہ کھولے جانے کے حوالے سے اپنے وعدے پر عمل کرے۔ مزید یہ کہ سابقہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی عوام پر عائد مالی حصار کو ختم کرنے کا وعدہ بھی پورا کرے۔

اسی طرح اتوار کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پوری دنیا کی قیادت ، بین الاقوامی اداروں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل ، انسانی حقوق کی کونسل، بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کو خطوط بھیجے جائیں۔ اس کا مقصد ایسے مناسب اقدامات کا کیا جانا ہے جن کے ذریعے اسرائیلی حکام کی جانب سے استعماری یہودی آبادکاری اور فلسطینی عوام کے خلاف ظلم و زیادتی کا سلسلہ روکا جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر جاری بیان میں دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی قرار دادوں پر عمل درامد کی ضرورت کو باور کرایا گیا۔