.

سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد مشترکہ سول ملٹری کونسل تحلیل اور ہنگامی حالت کا اعلان

فوج کی فائرنگ سے تین مظاہرین ہلاک، سوڈان میں مواصلات کے ذرائع بند، انٹرنیٹ سروس معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی فوج کے لیفٹینینٹ جنرل عبد الفتاح البرهان نے مشترکہ سول ملٹری کونسل کو معزول کر کے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ مشترکہ کونسل عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے بعد سے گذشتہ دو برسوں سے حکومت کا انتظام چلا رہی تھی۔

وزیراعظم عبداللہ حمدوک سمیت متعدد سیاسی رہنماوں کی گرفتاری کے بعد البرہان نے پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔

سوڈان کی وزارت اطلاعات آن لائن مسلسل بیانات جاری کر رہی ہے۔ ان بیانات میں کہا گیا ہے کہ حمدوک کو اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے فوجی بغاوت کی حمایت سے انکار کر دیا تھا۔

پیر کو حمدوک کی گرفتاری کے بعد دارالحکومت خرطوم میں ہنگامے اور احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ خرطوم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جنوبی سوڈان میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں جہاں مظاہرین کی اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ یہ لوگ شہر کے مرکز کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گولیوں کے چلنے کی آوازیں سنی ہیں، جس میں کم سے کم تین افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔مظاہرین سڑکوں پر ٹائر جلا رہے ہیں۔ الحدث نیوز چینل کے مطابق خرطوم کے اکثر ذرائع ابلاغ بند ہیں، جن میں انٹرنیٹ اور ریڈیو سٹیشن شامل ہیں۔ صرف سرکاری ٹی وی چل رہا ہے، جہاں سے ملّی نغمے نشر کی جا رہی ہے۔

معزول کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے والے وزیر آعظم حمدوک ماہر معاشیات ہیں اور ایک سفار ت کار کے طور پر اقوام متحدہ میں بھی کام کر چکے ہیں۔ انہیں اگست 2019 میں ملک کا عبوری وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔

حمدوک نے اس عبوری حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی جو ملک کے سابق مطلق العنان حکمران عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد وجود میں آئی تھی۔ اگلے سال آئین کے مطابق ملک میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ حمدوک کو انتخابات میں حصّہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔