لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی، 14بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے جب کہ 15بچوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کاہنہ میں واقع ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 30 کے قریب بچے ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 8 سے 10 بچوں کے ملبے تلے دبنے کی اطلاع ملی تھی تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ واقعے کے وقت سینٹر میں تقریباً 30 بچے موجود تھے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں نے اب تک 15 بچوں کو ملبے سے نکال لیا ہے اور تمام بچوں کو ہسپتال منتقل کردیا ہے جب کہ 4 سے 5 بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔

ایم ایس ٹی ایچ کیو کاہنہ نے سینیٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں ملبے تلے دبنے سے 14 بچوں کی اموات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں 19 بچے لائے گئے تھے، جن میں 5 بچوں کی حالت بہتر ہے۔

ریسکیو کے مطابق متعلقہ کمرے کی چھت ٹی آر گارڈر کی مدد سے تعمیر کی گئی تھی، جو اچانک منہدم ہوگئی۔واقعے کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جب کہ ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے بچوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں۔

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق زخمی بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ایس ایس پی انویسٹیگیشن لاہور محمد نوید نے میڈیا کو بتایا کہ شناخت کے بچوں کی لاشیں ان کے والدین کے حوالے کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ٹیچر کی حالت تشویش ناک ہے۔ ایس ایس پی محمد نوید نے مزید بتایا کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی اور قانونی کارروائی کے لیے مشاورت کر رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے حادثے میں بچوں کے جان سے جانے پر دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کی حادثے میں زخمی ہونے والوں کے لیے ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی۔

سینیئر پولیس افسر فیصل کامران نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ٹیوشن سینٹر کے مالک اور ایک اور شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پاکستان میں عمارتوں کے گرنے کے واقعات عام ہیں جہاں تعمیراتی معیار پر عملدرآمد اکثر کمزور ہوتا ہے۔ بہت سی عمارتیں غیر معیاری مواد سے تعمیر کی جاتی ہیں اور اخراجات کم کرنے کے لیے حفاظتی ضوابط کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں