.
افغانستان وطالبان

طالبان کے خوف سے افغان انٹیلی جنس اور فوج کے اہل کاروں کی داعش میں شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور اقتدار پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے افغان انٹیلی جنس کے درجنوں عناصر داعش تنظیم میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد طالبان تحریک کے تعاقب سے فرار ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک سابق افغان ذمے دار نے تصدیق کی ہے کہ افغان فوج کے ایک افسر نے داعش تنظیم کی شاخ (داعش خراسان) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ جنوب مشرقی صوبے پکتیا کے صدر مقام گردیز میں افغان فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپو کا ذمے دار تھا۔ یہ افسر ایک ہفتہ قبل طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا۔

سابق ذمے دار نے بتایا کہ افغان انٹیلی جنس اور فوج کے بہت سے عناصر جن کو وہ جانتا تھا انہوں نے بھی داعش خراسان میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل طالبان نے ان کے گھروں کی تلاشی لے کر ان سب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کو ملک کے نئے حکام کے حوالے کر دیں۔

دوسری جانب نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سیکورٹی کے زیر انتظام جاسوسی ایجنسی کے سابق سربراہ رحمت الله نبيل کے مطابق بعض علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے کچھ سابقہ عناصر کے واسطے داعش تنظیم نہایت پر کشش بن چکی ہے۔ اس وقت طالبان کے خلاف داعش تنظیم کے سوا کئی اور گروپ نہیں ہے جس میں یہ عناصر شامل ہو سکیں۔ رحمت اللہ نبیل افغانستان سے کوچ کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اگرچہ منحرفین کی یہ تعداد نسبتا تھوڑی ہے تاہم اس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس بات کی تصدیق طالبان قیادت اور ملک میں سابق سیکورٹی ذمے داران نے بھی کی ہے۔

داعش خراسان تنظیم نے گذشتہ ماہ متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ ان میں قندوز میں شیعوں کی ایک عبادت گاہ پر ہونے والا خود دھماکا شامل ہے۔ اس حملے میں تقریبا 100 افراد مارے گئے تھے۔

خیال ہے کہ سال 2020ء سے داعش خراسان تنظیم کی قیادت "شہاب المہاجر" کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے تنظیمی نام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ عرب نژاد ہے تاہم اس کا حقیقی وطن ابھی تک نامعلوم ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ القاعدہ تنظیم کا کمانڈر تھا یا پھر حقانی نیٹ ورک کا سابق رکن تھا۔

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق افغانستان کے شمال اور مشرق میں 500 سے لے چند ہزار جنگجوؤں تک کی تعداد داعش خراسان تنظیم کے ساتھ وابستہ ہے۔