سرکاری ٹیلی ویژن نے قالیباف کا انٹرویو نشر ہونے کے دوران اچانک روک دیا:ایرانی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ملک کے سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا انٹرویو دورانِ نشریات اچانک روک دیا۔

قالیباف نے انٹرویو میں مختلف اہم امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تہران خلیجی ممالک کے ساتھ مختلف امور پر مسلسل رابطے اور تبادلۂ خیال کر رہا ہے۔

محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے حقوق پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور سلطنتِ عمان کی ہے، جبکہ اس آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت ایران کے مقرر کردہ ضوابط کے مطابق ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ابتدائی 60 روز تک بغیر کسی فیس کے ہوگی۔

قالیباف نے کہا کہ ایران اس وقت اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایران ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر سکا، تاہم پابندیاں ختم ہونے کے بعد برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا:جس دن سے ناکہ بندی ختم ہوئی، اس کے بعد سے اب تک ہم 4 کروڑ سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکے ہیں، جبکہ اس سے پہلے تقریباً 50 سے 60 دن تک ہم عملی طور پر ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر پا رہے تھے۔

انہوں نے ایک بار پھر تصدیق کی کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے۔

قالیباف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کی کوشش کرے گا تو پھر کسی کو بھی تیل سے فائدہ نہیں پہنچے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اس وقت تک کسی نئے مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا جب تک مفاہمتی یادداشت میں درج شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔

قالیباف کے مطابق تہران، واشنگٹن اور بیروت نے لبنان میں جنگ کے خاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی ہے۔

واضح رہے کہ 14 نکاتی عارضی معاہدے کے تحت دونوں فریقوں کو 60 روز کی مہلت دی گئی ہے تاکہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع کے خاتمے اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت دیگر متنازع امور پر مذاکرات مکمل کیے جا سکیں۔

اس تنازع کے باعث تیل اور دیگر اشیا کی عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی، جبکہ خلیجی خطے کے کئی ممالک ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں بھی آئے۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت ایران اور لبنان سے تعلق رکھتی ہے۔

چار ماہ قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ سے ماضی میں دنیا کی مجموعی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں