.

اسرائیلی عوام کی اپنے وزیر خارجہ کے لیے دھمکیاں اور موت کی تمنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپڈ کا کہنا ہے کہ انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں اور ان کی بیگم کو فحش پیغامات بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ لیپڈ نے یہ انکشاف پیر کے روز پارلیمنٹ میں اپنی جماعت کے ارکان کے اجلاس میں کیا۔

اس حوالے سےi24News ٹی وی چینل کی ویب سائٹ نے بتایا کہ لیپڈ کے مطابق ایک صارف نے اپنے پیغام میں ان کے لیے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ ایک روز سرطان میں مبتلا ہو کر مریں۔ صارف نے لیپڈ کو ہٹلر سے ملایا اور کہا کہ "تم میری یا کسی اور شخص کی گولی کا نشانہ بنو گے"۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کے مطابق ان کی 53 سالہ اہلیہLihi Lapid کو بھی سوشل میڈیا کی ایک خاتون صارف کی جانب سے نا مناسب پیغام بھیجا گیا۔ خاتون نے کہا کہ " تم اور لیپڈ یائر اپنی بیٹی Yael سے زیادہ خدا کے عذاب کے مستحق ہو ... میری دعا ہے کہ خدا تم دونوں سے اور تمہاری بیٹی سے مزید انتقام لے"۔

یائر لپیڈ نے ان پیغامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ بڑا خطرہ یہ ہے کہ "ہم ایسے پر تشدد راستے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جو ہماری زندگی کے ہر شعبے میں سرائیت کرتا جا رہا ہے۔ سڑک سے لے کر اسکولوں تک ... اگر ہم نے مل کر پر روک نہ لگائی تو ہمارا معاشرہ تشدد اور نفرت سے بھر جائے گا"۔

لیپڈ کے مطابق پورا اسرائیلی معاشرہ تباہی کے کنارے کھڑا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے اس چیز کو روکنا ہو گا۔ سیاسی خطاب اور تقریر کو بدلنا چاہیے۔ شدید اختلاف اور عدم موافقت ممکن ہے مگر پارلیمنٹ کے اجلاس میں کھڑے ہو کر گالم گلوچ ، دھمکیاں اور ذاتی توہین یہ سب انتہائی سطحی باتیں ہیں۔

تل ابیب میں 58 برس قبل دنیا میں آنے والے لیپڈ نے زور دے کر کہا کہ "اگر ہم اس لہر کو روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پھر تمام لوگوں کو اس عمل میں شریک ہونا چاہیے۔ میڈیا کی اپنی ذمے داری ہے ، اسی طرح تعلیمی محکموں اور پولیس کی بھی ... یہ بیدار ہونے کی ایک پکار ہے .. نفرت کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی تعداد دنیا بھر میں سرطان سے مرنے والوں سے زیادہ ہے ... بھوک اور قحط سے مرنے والوں سے بھی زیادہ ہے ... لہذا ہمیں اس کو روکنا چاہیے اس سے پہلے کہ یہ ہمارا راستہ روک دے"۔