.

لیبیا:جنرل خلیفہ حفتر کاصدارتی انتخابات میں بہ طور امیدوار حصہ لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی حصے سے تعلق رکھنے والی قومی فوج(ایل این اے) کے کمانڈرخلیفہ حفتر نے آیندہ ماہ ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بہ طور امیدوارحصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

خلیفہ حفتر نے منگل کے روز ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ’’انتخابات ہی ملک کودرپیش شدید بحران سے نکالنے کا واحد راستہ ہیں۔اس وقت ہمارا ملک اس بحران کی گہری کھائی میں گرچکاہے۔‘‘وہ آج مشرقی شہربنغازی میں بہ طورصدارتی امیدوار اپنے کاغذات جمع کرانے والے تھے۔

واضح رہے کہ جنرل خلیفہ حفترنے 2014 میں طرابلس میں قائم حکومت کے حامی دھڑوں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑدی تھی۔ان کے زیرقیادت لیبی قومی فوج نے طرابلس پر قبضہ کرنے کے لیے 14 ماہ تک جارحانہ فوجی کارروائی کی تھی لیکن بین الاقوامی طور پرتسلیم شدہ حکومت نے ان کی اس فوجی مہم جوئی کومسترد کردیا تھا اوراس کو ملک کی سالمیت کے خلاف سازش قراردیا تھا۔

خلیفہ حفترکے بہ طور صدارتی امیدوارانتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے سے طرابلس اور مغربی علاقوں میں بہت سے لوگ ناراض ہوں گے کیونکہ ان کا یہ مؤقف ہے کہ لیبی قومی فوج کے زیرنگیں ملک کے مشرقی علاقوں میں منصفانہ اور شفاف انداز میں انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکےگا۔

ان انتخابات کو سابق صدرمعمرالقذافی کی معزولی کے بعد لیبیا میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری افراتفری کے تناظر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور انھیں ملک میں اتحاد ویگانگت کے فروغ کا ذریعہ اور متحارب سیاسی اور مسلح دھڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا ذریعہ قراردیا جارہا ہے۔تاہم انتخابات کی قانونی بنیاد پر کوئی واضح معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے بڑے دھڑے ووٹ کو مسترد کرسکتے ہیں۔

خلیفہ حفتر سے دوروز قبل گذشتہ اتوار کولیبیا کے مقتول لیڈرمعمرالقذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے 24 دسمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بہ طورامیدوارحصہ لینے کے لیے اپنے نام کا اندراج کرایا تھا۔

سیف قذافی لیبیا کی ان اہم شخصیات میں سے ایک ہیں جو صدر کا انتخاب لڑرہی ہیں-صدارتی امیدواروں کی فہرست میں لیبیا کے مشرقی علاقے کے کمانڈرخلیفہ حفتر،وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ اور پارلیمان کے اسپیکر عقیلہ صالح بھی شامل ہیں۔

اس بات کاامکان ہے کہ سیف قذافی 2011ء میں نیٹو کی حمایت یافتہ عوامی بغاوت سے پہلے کے دور کی بنیاد پر صدارتی انتخاب لڑیں گے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ شاید صدارتی انتخابات میں مضبوط امیدوار یافرنٹ رنر ثابت نہ ہوں۔