.

’طالبان کے ساتھ بھنگ کے معاہدے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں‘آسٹریلوی کمپنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک چھوٹی آسٹریلوی میڈیکل کنسلٹنسی فرم نے جمعرات کو ایک غیر متوقع طوفان کا اس وقت سامنا کرنا پڑا جب اس کا نام افغانستان میں طالبان کے ساتھ بھنگ کا کارخانہ لگانے کے حوالے سےایک معاہدے میں لیا گیا۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا کی یہ نجی کمپنی افغان طالبان کے ساتھ 450 ملین ڈالرمالیت سے کینابیس مینوفیکچرنگ پلانٹ کو فنڈ دینے کا معاہدہ کیا ہے۔ تاہم اس معاہدے میں جس کمپنی کا نام لیا گیا اس کا اس معاہدے سے کوئی لینا دینا نہیں۔

آسٹریلیا کی ایک میڈیکل کریم تیار کرنے والی کمپنی ’سی فارم‘ کو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے آنے والی تنقید کے بعد وضاحت کرنا پڑی ہے کہ اس نے طالبان کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے۔

کمپنی کے لیے یہ غیر متوقع "طوفان" افغان ’بجواک‘ نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آسٹریلین ’سی فارم‘ کے نمائندوں نے وزارت داخلہ میں انسداد منشیات کے حکام سے ملاقات کی تاکہ فیکٹری میں ادویات کی تیاری اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں بھنگ کی کاشت قانونی ہے اور آسٹریلوی کمپنی کی اپنی طبی مصنوعات کے لیے طالبان کے ساتھ ڈیل کی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے ایک گروپ نے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے’سی فارم‘ کا نام لیا۔ لندن کے اخبار ٹائمز نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی جس میں آسٹریلوی کمپنی کا نام لیا گیا۔

بی بی سی سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس نے بھی اس دعوے کو دوبارہ شائع کیا۔

’سی فارم کا رد عمل‘

تاہم سی فارم آسٹریلیا جس کے 17 ملازمین کے ساتھ ایک خاندانی کاروبار ہے نے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ اس نے کبھی طالبان سے معاہدہ نہیں کیا۔ بیرون ملک کوئی لین دین نہیں کیا اور نہ ہی بھنگ کے استعمال کی کوئی سرگرمی شروع کی ہے۔

کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر ٹونی گیبٹس نے سڈنی سے 166 کلومیٹر دور کمپنی کے ہیڈ کوارٹر سے فون کے ذریعے تصدیق کی کہ یہ ساری بات جھوٹ پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج 40 یا 50 کالز موصول ہوئیں۔ہم بے بس ہوگئے ہیں۔ یہ سب جھوٹ ہے۔ "

یہ بات قابل ذکر ہے کہ افیون اور منشیات کا کاروبار افغانستان میں دولت کے حصول کے لیے کئی سالوں سے ایک بنیادی تعمیر کا حصہ بنا ہوا ہے۔سنہ 1990 کی دہائی کے دوران خاص طور پر طالبان کی سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد ہرسال ہزاروں ٹن اس منشیات کاشت کی جاتی ہے۔