سوڈانی وزیراعظم حمدوک کا مابعدبغاوت معاہدے کی عدم تعمیل پرعہدہ چھوڑنے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے عبوری وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے مابعدبغاوت فوج کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی عدم تعمیل پراپنا منصب چھوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ان کے قریبی ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ وزیراعظم حمدوک گذشتہ ہفتے فوج کے ساتھ طے شدہ سیاسی معاہدے پر عمل درآمد کرانے یاسیاسی دھڑوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ اس صورت میں اپناعہدہ چھوڑدیں گے ۔

عبداللہ حمدوک کو فوج نے 25 اکتوبرکو اقتدارپر قبضے کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹادیا تھا اور خرطوم میں ان کے گھر میں نظربند کردیا تھا لیکن چار ہفتے کے بعد 21 نومبر کو طے شدہ معاہدے کے تحت انھیں رہا کرکے وزارت عظمیٰ کے منصب پربحال کردیا تھا۔

فوج کے حکومت پرقبضے کے اقدام سے سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیرکی حکومت کوگرانے میں شریک فوج اور سیاسی گروپوں کے درمیان 2019ء میں طے شدہ شراکت اقتدارکا معاہدہ بھی ختم ہوگیا تھا۔

ان سیاسی گروپوں نےاس نئے معاہدے کو مسترد کردیا ہے اورمزاحمتی کمیٹیوں نے اس کے خلاف احتجاجی مہم کا اہتمام کیا ہے۔اس معاہدے میں آرمی چیف ہی کو خودمختار کونسل کا نگران مقررکردیا گیا ہے حالانکہ یہ عہدہ سویلین کو ملنا چاہیے تھا۔

منگل کے روز خرطوم میں احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی اور وہ شراکت اقتدار کے معاہدے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔وہ نعرے بازی کررہے تھے:’’کوئی شراکت داری نہیں، کوئی بات چیت نہیں، کوئی سمجھوتا نہیں‘‘۔

سابق مطلق العنان صدر عمرحسن البشیر کے خلاف دسمبر 2018 میں احتجاجی مہم کا آغازہوا تھا۔اب ان مظاہروں کے آغاز کی سالگرہ پردسمبر میں مزید مظاہروں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ بغاوت کے بعد ہونے والا معاہدہ فوج کے حق میں ہے۔اس معاہدے کے تحت حمدوک کو ٹیکنو کریٹس پر مشتمل نئی کابینہ تشکیل دینے کی اجازت دی گئی ہے۔معاہدے میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تحقیقات پر زوردیاگیا ہے جس میں طبی عملہ کے مطابق 43 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

عبداللہ حمدوک کا کہنا ہے کہ انھوں نے خون ریزی روکنے اورانتہائی ضروری بین الاقوامی مالی امداد کو محفوظ بنانے کے لیے معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔

دریں اثناء عبداللہ حمدوک نے بدھ کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے۔اس کے تحت بیشتر نگران نائب وزراء کوہٹا دیا گیا ہے۔انھیں فوج نے بغاوت کے بعد مقرر کیا تھا لیکن اس فرمان میں خزانہ ، وفاقی حکمرانی اور اطلاعات کی وزارتیں شامل نہیں ہیں۔

سوڈانی ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے بتایا کہ منگل کو مظاہروں کے دوران میں 98 افراد زخمی ہوئے تھے۔ان میں زیادہ ترآنسو گیس کے کنستروں اور سٹن گرینیڈ سے زخمی ہوئے تھے۔ احتجاجی تحریک سے وابستہ گروپ نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹروں نے اس دن استعمال کی جانے والی آنسو گیس کا سخت رد عمل دیکھا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ ہجوم کی وجہ سے آنسو گیس سے دم گھٹنے اور زخمی ہونے کے کچھ واقعات سامنے آئے ہیں اور 44 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

فوجی بغاوت کے بعد گرفتار ہونے والے بیشترسرکردہ سیاستدانوں کو رہا کردیا گیا ہے جبکہ وکلاء کا کہنا ہے کہ بہت سے مظاہرین اب بھی زیرحراست ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں