متحدہ عرب امارات کے بڑے شہروں کو ملانے کے لیے اتحاد ریلوے پروگرام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اتحاد ریلوے پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو ملک بھر میں سامان اور مسافروں کی نقل و حمل کا سب سے بڑا مربوط نظام ہوگا۔

اس پروگرام کے تحت مسافرٹرینیں چلانے کے لیے اتحاد ریل میں توسیع کی جائے گی اور توقع ہے کہ 2030ء تک ملک کے بڑے شہروں کے درمیان چلنے والی ٹرینوں کے ذریعے لاکھوں مسافرسفر کررہے ہوں گے۔اس سے مسافر ابوظبی سے دبئی کا فاصلہ 50 منٹ میں اورابوظبی سے فجیرہ تک کافاصلہ 100 منٹ میں طےکر سکیں گے۔

سرکاری خبر رساں ادارے وام کی رپورٹ کے مطابق حاکمِ دبئی شیخ محمد بن راشدآل مکتوم اورابوظبی کے ولی عہد شیخ محمدبن زید آل نہیان کی موجودگی میں اس پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے اور یہ آنے والی دہائیوں میں ریلوے کے شعبے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کا مظہرہے۔

اس پروگرام میں ریلوے منصوبوں کا ایک قومی نیٹ ورک شامل ہے جو امارات میں شامل اہم شہروں کوملاتا ہے۔اتحاد ریل کا پہلا مرحلہ 2016 سے مکمل طور پر فعال ہے۔اس میں یواے ای کی سرحدوں سے باہر تک توسیع کے مواقع بھی موجود ہیں۔

یواے ای ریلوے پروگرام ’پروجیکٹس آف دا50‘ کے تحت آتا ہے۔اس میں ترقیاتی اوراقتصادی منصوبوں کا ایک سلسلہ ہے۔اس کا مقصد متحدہ عرب امارات میں ترقی کا عمل تیز کرنا، اسے تمام شعبوں کے ایک جامع مرکز کے طور پر تبدیل کرنا اور صلاحیت کار کو بہتربنانا اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثالی منزل بناناہے۔

متحدہ عرب امارات ریلوے پروگرام کا آغاز دبئی ایکسپو 2020 میں 50 منصوبوں کی خوشی میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران میں کیا گیا ہے۔اس تقریب میں پروگرام کے مقاصد اور اتحاد ریل منصوبے کے مراحل پر روشنی ڈالی گئی جو سعودی عرب کے ساتھ سرحد پرخویفات کو مشرقی ساحل پر واقع فجیرہ کی بندرگاہ سے ملاتا ہے۔

شیخ محمد نے کہا:’’اتحاد ریل اگلے پچاس سال تک یونین کی طاقت کو مستحکم کرنے کا سب سے بڑامنصوبہ ہے۔یہ یواے ای کے11اہم شہروں اورعلاقوں کوآپس میں ملائے گا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’یواے ای کا بنیادی شہری ڈھانچا دنیا کے بہترین بنیادی ڈھانچوں میں سے ایک ہے اور اتحاد ریل نقل وحمل کے شعبے میں یواے ای کی برتری میں مزید اضافہ کرے گی۔ یہ منصوبہ یواے ای کی ماحولیاتی پالیسی کے مطابق ہے اور اس سے کاربن کے اخراج میں 70 سے 80 فی صد تک کمی آئے گی‘‘۔

شیخ محمد نے مزید کہا:’’نیشنل ریلوے پروگرام ہمارے قومی اقتصادی نظام میں انضمام کے حقیقی معنی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ ہم وفاقی اور مقامی سطح پر سرکاری اداروں کے درمیان سب سے بڑی شراکت داری دیکھتے ہیں۔ یہ ملک کی صنعت اور پیداوارکے اہم مراکز کو جوڑنے، نئے تجارتی راستے کھولنے اور آبادی کی نقل و حرکت کو آسان بنانے، خطے میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ کام اور زندگی کاماحول پیدا کرنے کے قومی وژن کی عکاسی کرتا ہے‘‘۔

ابوظبی ولی عہد کے دیوان اوراتحاد ریل کے چیئرمین شیخ ثیاب بن محمد بن زید آل نہیان نے کہا کہ یواے ای ریلوے پروگرام روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

اتحاد ریل کے چیف ایگزیکٹوآفیسر شیدی ملاک نے بتایا کہ ریلوے پروگرام 2030 تک 9 ہزار سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرے گا۔یواے ای ریلوے پروگرام پرقریباً 13.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔یہ پروگرام ماحولیات کے تحفظ اور کاربن غیرجانبداری کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یواے ای کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

یواے ای ریلوے پروگرام میں تین اہم منصوبے شامل ہیں۔ پہلا منصوبہ فریٹ ریل ہے جس میں اتحاد ریل فریٹ سروسز بھی شامل ہیں۔دوسرا منصوبہ ریلوے مسافروں کو خدمات مہیا کرنے سے متعلق ہے۔اس کا مقصد یواے ای کے گیارہ شہروں کوالسیلا سے فجیرہ تک ملایا جائے گا۔ 2030ء تک اس کے مسافروں کی تعداد سالانہ تین کروڑ 36 لاکھ سے زیادہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

تیسرا منصوبہ، مربوط ٹرانسپورٹیشن سروس سے متعلق ہے۔اس کے تحت ایک ہی مربوط اسمارٹ ٹرانسپورٹیشن کے انضمام کو یقینی بنانے کے لیے ایک اختراعی مرکز قائم کیا جائے گا۔ یواے ای کے شہروں کے اندر نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے ہلکی ریل کا نیٹ ورک مسافر ریلوے نظام سے منسلک کیا جائے گا۔

مزید برآں منصوبہ بندی اور بکنگ کے دوروں کی اجازت دینے، لاجسٹک آپریشنز، پورٹ اور کسٹم سروسز کو مربوط کرنے اور مربوط لاجسٹک حل فراہم کرنے کے لیے اسمارٹ ایپلی کیشنز اوردیگرحل بھی وضع کیے جائیں گے۔

اتحاد ریل کا پہلا مرحلہ (تجارتی سرگرمی) جنوری 2016 میں شروع ہوا تھا۔اتحاد ریل نے تین کروڑ ٹن سے زیادہ دانے دار گندھک (قریباً 28 لاکھ ٹرک ٹرپس کے مساوی) کی نقل و حمل کی ہے۔

دوسرے مرحلے میں تعمیراتی کام 2018 میں شروع کیا گیا تھا۔کووڈ-19 وبا کے چیلنجوں کے باوجود 24 ماہ سے بھی کم عرصے میں اس کا 70 فی صد حصہ مکمل کر لیاگیا تھا۔ اتحاد ریل نے اپنے واضح اہداف اور جامع منصوبے کو آگے بڑھانے اور اس کی بروقت تکمیل کے لیے کام کو جاری رکھا ہوا ہے۔

اس ریلوے منصوبے میں اب تک 180 ادارے تعاون کر رہے ہیں اور 40 ہزار سے زیادہ سرکاری کاغذات جاری کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں 3000 سے زیادہ تعمیراتی مقامات پر27 ہزار افراد کام کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں