برطانیہ: اسکینڈلوں کی بدولت بورس جانسن اور ان کی پارٹی کی حمایت میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جانسن اور ان کی حکمراں سیاسی جماعت "کنزرویٹو پارٹی" کے لیے عوامی حمایت کا تناسب کم ہوا ہے۔ یہ کمی پارٹی سے متعلق سلسلہ وار اسکینڈلوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ رائے دہندگان کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اب وزیر اعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

ہفتے کے روز جاری ایک سروے رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتوں میں جانسن کو متعدد محاذوں پر تنقید کا سامنا رہا۔ ان امور میں ڈاؤننگ اسٹریٹ پر اپنی قیام گاہ کی تجدید کے لیے فنڈنگ اور کابل سے پالتو جانوروں کو نکالنے کے واسطے مداخلت کا دعوی شامل ہے۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ نقصان ان رپورٹوں نے پہنچایا جن میں کہا گیا کہ 2020ء میں کرسمس کے موقع پر لاک ڈاؤن میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کے دفتر میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جب کہ اس نوعیت کی تقاریب پر مکمل پابندی عائد تھی۔

مذکورہ سروے Opnium انسٹی ٹیوٹ نے Observer اخبار کے لیے کرایا۔ سروے کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کی حمایت کم ہو کر 32% تک آ گئی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی لیبر پارٹی کی تائید کا تناسب 41% تک بڑھ گیا ہے۔

اسی طرح وزیر اعظم بورس جانسن کی ذاتی حمایت بھی انتخابات کے بعد سے نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سروے کے مطابق 57% رائے دہندگان سمجھتے ہیں کہ انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ دو ہفتے قبل اس رائے کے حامل ووٹرز کا تناسب 48% تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں