ایران کی فٹبال ٹیم کے کوچ امیر قلعہ نویی نے ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے والے 47 دیگر کوچوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کوچ نے ان کی بات کا جواب نہیں دیا اور ان کی خاموشی کو وہ ملی بھگت قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ متاثرہ ٹیم ہے۔
اتوار کے روز لاس اینجلس میں بیلجیئم کے خلاف میچ 0-0 سے برابر ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کے کوچ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ کوئی اور ٹیم ان حالات کو برداشت کر سکتی ہے جن سے ان کی ٹیم ٹورنامنٹ سے پہلے اور دورانِ ٹورنامنٹ گزری ہے۔
ایرانی ٹیم ایسے وقت میں پہنچی جب ان کا ملک میزبان ملک امریکہ کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا۔ ٹیم میکسیکو کے شہر تیخوانا میں مقیم رہی جو لاس اینجلس کی سرحد پر واقع ہے، جبکہ انہیں اپنے گروپ کے تمام میچ امریکہ میں کھیلنے ہیں۔
قلعہ نویی نے کہا کہ ہم بد ترین حالات میں ورلڈ کپ میں آئے ہیں۔ لیگ بند تھی، ہم نے ایک کیمپ کا انتخاب کیا پھر ہم سے کہا گیا کہ ٹورنامنٹ سے چند دن پہلے تیخوانا چلے جائیں۔ 16 گھنٹوں میں ہم نے دو بار سفر کیا اور اب ہمیں ہوائی اڈے جانا ہے اور واپس تیخوانا آنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ٹیم اسے برداشت کر سکتی ہے۔ میری ٹیم کے کھلاڑی دل سے کھیل رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اسے یاد رکھنا چاہیے۔
ایرانی کوچ نے اس بات کی نشان دہی کی کہ انہوں نے ٹورنامنٹ میں موجود 47 دیگر کوچوں سے حمایت کی درخواست کی تھی لیکن انہیں کسی کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خاموشی ملی بھگت ہے۔
میر قلعہ نویی نے کہا کہ اگر ان کا کوئی ساتھی ایسی صورت حال سے گزرتا تو وہ ضرور آواز اٹھاتے۔ انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں فٹ بال کے لیے آئے ہیں، سیاست کے لیے نہیں۔