اسرائیل نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو کب نشانہ بنایا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

باخبر ذرائع نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی پیر کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے درست ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے گذشتہ دو برسوں کے دوران میں دو ایسے حملے کیے جن میں شام کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کا مقصد دمشق کو پھر سے کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کا عمل شروع کرنے سے روکنا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق اسرائیل نے آٹھ جون (2021ء) کو شام کے دو شہروں دمشق اور حمص کے نزدیک تین عسکری اہداف پر حملہ کیا تھا۔ یہ تمام مقامات شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے سابقہ پروگرام کے ساتھ مربوط ہیں۔ اسی طرح مارچ (2020ء) کو ایک بنگلے اور ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان دونوں مقامات کا تعلق کیمیائی مواد کی خریداری کے ساتھ ہے جس کو اعصابی گیسوں کے واسطے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مغربی ممالک کے چار سابق اور حالیہ انٹیلی جنس ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ تل ابیب نے مذکورہ حملوں کا فیصلہ درست معلومات کے حصول کے بعد کیا۔ معلومات کے مطابق شامی حکومت نے کیمیائی پروگرام کے دوبارہ آغاز کے واسطے مواد اور لوازمات حاصل کیے۔ ذمے داران نے واضح کیا کہ یہ حملے اسرائیلی اداروں کی اُس تشویش کے عکاس ہیں جو انہیں دو سال قبل دمشق کے کیمیائی عناصر درآمد کرنے میں کامیابی پر ہوئی تھی۔ یہ درآمد شدہ عناصر سارین گیس کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ دمشق حکومت جنگ کے گذشتہ دس برسوں کے دوران میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتی آئی ہے۔ البتہ اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کی بارہا تحقیقات کے نتائج میں یہ بات کہی جا چکی ہے کہ شامی افواج نے 2015ء سے 2018ء کے بیچ اعصابی گیس (سارین) اور کلورین گیس کا استعمال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں