طالبان حکام کی جانب سے شراب کی فروخت پر کریک ڈاؤن کے بعد افغان انٹیلی جنس اہلکاروں نے کابل کی نہر میں تقریباً 3 ہزار لیٹر شراب بہا دی۔
خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق افغانستان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں انٹیلی جنس اہلکاروں کو دارالحکومت کابل میں چھاپے کے دوران پکڑے گئے شراب کے بیرل نہر میں ڈالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے نے اتوار کو ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں ایک اہلکار نے کہا کہ مسلمانوں کو شراب بنانے اور اس کی فراہمی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ چھاپہ کب مارا گیا یا شراب کو کب تلف کیا گیا لیکن انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران تین ڈیلرز کو گرفتار کیا گیا۔
یاد رہے کہ مغرب کی حمایت یافتہ سابقہ حکومت میں بھی افغانستان میں شراب کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد تھی۔
15 اگست کو طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک بھر میں منشیات کے عادی افراد سمیت ہر سطح پر نشہ آور افراد کے خلاف چھاپوں میں اضافہ ہوا ہے۔
طالبان حکومت کی نیکی کے فروغ اور برائی سے روک تھام کی وزارت نے خواتین پر بھی متعدد پابندیاں عائد کی ہیں جس پر عالمی برادری نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
-
افغان خواتین مرد رشتہ دار کے بغیر سفر نہیں کر سکتیں: طالبان کا حکمنامہ جاری
طالبان نے ايک تازہ حکم نامے ميں عورتوں کا کسی ’قريبی رشتہ دار‘ مرد اور حجاب کے ...
بين الاقوامى -
وڈیو : افغان طالبان کی ٹیکسی ڈرائیور کو موسیقی سننے پر تنبیہ
اگست 2021ء میں اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد تمام وعدوں کے باوجود افغان تحریک ...
بين الاقوامى -
لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور جامعات کو آئندہ سال کھول دیں گے : افغان طالبان کا نیا وعدہ
رواں سال اگست (2021ء) میں افغانستان پر تحریکِ طالبان کے کنٹرول کے بعد سے تحریک ...
بين الاقوامى -
’طالبان کے ساتھ بھنگ کے معاہدے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں‘آسٹریلوی کمپنی
ایک چھوٹی آسٹریلوی میڈیکل کنسلٹنسی فرم نے جمعرات کو ایک غیر متوقع طوفان کا اس وقت ...
بين الاقوامى