ایندھن قیمتوں پر احتجاج، قازق صدر کا بلوائیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

قازقستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 46 ہوگئی ہے جبکہ قازق صدر نے فوج کو بلوائیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی اجازت دیدی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر 2 جنوری سے ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مستعفی ہوگئی تھی اور صدر نے ہنگاموں سے متاثر ہونے والے دو شہروں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔

الماتی اور مینگسو میں ایمرجنسی کے نفاذ اور رات بھر کرفیو کے باوجود حالات تاحال کشیدہ ہیں۔ ان شہروں میں صدر قاسم جومارت توکاییف نے فوج کو حکم دیا ہے کہ توڑ پھوڑمیں ملوث افرادکو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں