قازقستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 46 ہوگئی ہے جبکہ قازق صدر نے فوج کو بلوائیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی اجازت دیدی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر 2 جنوری سے ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مستعفی ہوگئی تھی اور صدر نے ہنگاموں سے متاثر ہونے والے دو شہروں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
الماتی اور مینگسو میں ایمرجنسی کے نفاذ اور رات بھر کرفیو کے باوجود حالات تاحال کشیدہ ہیں۔ ان شہروں میں صدر قاسم جومارت توکاییف نے فوج کو حکم دیا ہے کہ توڑ پھوڑمیں ملوث افرادکو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔
-
کویت نے اپنے شہریوں کو قازقستان چھوڑنے کی ہدایت کر دی
قازقستان میں موجود کویت کے سفارتخانے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت ...
مشرق وسطی -
روس کی قیادت میں سکیورٹی اتحاد کا پہلا فوجی دستہ قازقستان روانہ
روس کی قیادت میں فوجی اتحاد نے قازقستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی پرقابو پانے کے لیے ...
بين الاقوامى -
قزاقستان میں فوجی طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
الماٹی میں فوجی طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثہ کا شکار ہونے کے باعث 4 افراد ہلاک ہو ...
بين الاقوامى