اونٹوں کا خوراک اورتفریح کے لیے بحیرہ احمر کا موسمی سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہر سال مخصوص اوقات میں "ساحلی اونٹ" بحیرہ احمر کے پانیوں کے درمیان موسم سرما کے تفریحی سفر کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اس سفر کا بنیادی کام چمرنگ [مانگروو] درختوں کی طرف سے فراہم کردہ اعلیٰ معیار کی خوراک کے اجزاء سے فائدہ اٹھانا ہے۔ان درختوں کی بڑی تعداد نے بحیرہ احمر کے جزیروں کو ڈھانپ رکھا ہے۔ سمندروں اور دریاؤں کے کناروں پر پائے جانے والے ان درختوں کے پتوں کو اونٹوں کی پسندیدہ خوراک قرار دیا جاتا ہے۔

سال کےان اوقات میں سمندر کے کنارے جانے کے لیے مشہور اونٹوں کے مالک حسن محمد الھلالی بتاتے ہیں کہ اونٹوں کو ’چمرنگ‘ کے درخت کے پتوں سے جسے مقامی طورپر"شورایٰ" کہا جاتا ہے سے اونٹون کے لیے خوراک تیار کی جاتی ہے۔ مگریہ سفر صرف مانجروف کے کھانوں تک محدود نہیں بلکہ رات کے آرام اور تفریح سے ختم ہوتا ہے۔ رات کے اوقات میں اونٹوں کے ریوڑ بھی آرام کرتے ہیں جو کہ قدیم زمانے سے ساحلی اونٹوں کی تفریح کے لیے مشہور ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ایس پی اے‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سفرعام طور پر صبح سویرے شروع ہوتا ہے جب تجربہ کار اونٹ ہجوم کو آگے لے کر چلتا ہے۔ پھروہ ساحل کے قریب بغیر کسی خوف اور ہچکچاہٹ کے جزیروں پرجاتے اور سمندرکے پانی کوعبور کرتے ہیں۔ وہ سارا دن ’شوریٰ‘ کے پتے کھانے اور پانی سے نہانے سے لطف اٹھاتے ہیں۔ جب شام ہوتی ہے تو وہ اگلی صبح تک قریبی جزیرے پر سونے کے لیے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔

ساحلی اونٹوں کے فوائد

"ساحلی اونٹوں" کے سمندری ساحل پر رہنے کے حوالے سے ان کی نمایاں ترین خصوصیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے "الہلالی" نے کہا کہ وہ دودھ کی کثرت اور معیار کے ساتھ ساتھ ان کے گوشت کی کوالٹی کے لحاظ سے بھی منفرد مقام رکھتے۔

یہ ساحلی اونٹ اپنے گہرے سرخ رنگ کی بدولت مشہور ہیں اور انہیں’الدھم‘ کہا جاتا ہے۔ ان خصوصیات کی وجہ سے اس اونٹ کی طلب بہت زیادہ ہے اور لوگ بڑی قیمت دے کر ان اونٹوں کی خریداری کرتے ہیں۔

جہاں تک ’چمرنگ‘ درختوں کا تعلق ہے اس درخت کو ماحولیات اور پودوں کے ذمہ دار حکام کی طرف سے غیرمعمولی توجہ دی جاتی ہے۔ یہ ان درختوں میں سے ایک ہے جو عام طور پر ماحولیاتی نظام کو اور خاص طور پر سمندری ماحول کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ یہ زمین کو بنجر بننے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سال 2020 کے آخر تک 14 ملین سے زیادہ ’شوری‘[چمرنگ] کے درخت لگانے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ وژن 2030ء کے اہداف میں خلیج عرب میں ان درختوں کی شجر کاری کا ہدف 10 کروڑ تک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں