امریکا اور روس کی میزائلوں اور فوجی مشقوں پر باہمی پابندیوں پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی معاون وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے پیر کے روز اپنے روسی ہم منصب نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کے ساتھ میزائلوں اور فوجی مشقوں سے متعلق بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے لیے باہمی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، تاہم انھوں نے ماسکو کی جانب سے انتباہ کی تجدید کی کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ماسکو یوکرین پر چڑھائی کرے گا تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

شرمین نے روس کے نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف کے ساتھ جنیوا میں بات چیت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے بہت سے امور پر تبادلہ خیال کیا جو ہمارے ممالک کو ایسے باہمی اقدامات کرنے کے قابل بنائیں گے جن کے ساتھ ہماری سلامتی کے مفادات وابستہ ہیں۔

دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ملاقاتوں کے بعد ایک پریس بیان میں کہا کہ ہم نے امریکیوں سے کہا کہ ہم یوکرین پر حملہ نہیں کرنا چاہتے۔

اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد روسی نائب وزیر خارجہ ریابکوف نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ تصادم کے خطرے کو "کم نہ سمجھے" لیکن اس بات پر بھی زور دیا کہ صورت حال "مایوس ک نہیں" ہے۔

پیر کی شام جنیوا میں دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کے فریم ورک کے اندر، سلامتی کی ضمانتوں کے معاملے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے روسی- امریکی مذاکرات کا ایک نیا دور اختتام پذیر ہوا۔

روس کے نائب وزیر خارجہ نے ملاقاتوں کے بعد ایک پریس بیان میں کہا کہ ہم نے امریکا پر شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کی توسیع کے بارے میں اپنے تحفظات واضح کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یوکرین پر واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پیچیدہ تھے۔"

روسی-امریکی حکام کی ملاقات تقریباً 7.5 گھنٹے جاری رہی اور سوئس شہر جنیوا میں امریکی مشن کے ہیڈ کوارٹر میں بند دروازوں کے پیچھے ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں