یمن اور حوثی

یمن میں عرب اتحاد کے فضائی حملے میں اہم حوثی رہنما ہلاک

صنعاء میں حوثی ملیشیا کے مضبوط گڑھ اور فوجی کیمپوں پر فضائی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن کے دارالحکومت صنعاء کے شمال میں عرب اتحاد کے فضائی حملے میں حوثی رہنما میجرجنرل عبداللہ قاسم الجنید سمیت چودہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

الحدث اورالعربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق عرب اتحاد نے صنعاء میں حوثی ملیشیا کے مضبوط گڑھ اور فوجی کیمپوں کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا ہے اورجبل النبی شعیب میں حوثیوں کے ڈرون ڈپو اور مواصلات کا نظام تباہ کر دیاہے۔

یمن میں قانونی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد نے متحدہ عرب امارات میں شہری تنصیبات پر دہشت گردحملے کے ایک روزبعد صنعاء میں فضائی حملے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اتحاد نے بتایا کہ فضائی حملے میں صنعاء کے شمال میں حوثی دہشت گردوں کے لیڈروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اورایف 15لڑاکا طیاروں نے دو بیلسٹک میزائل لانچر تباہ کر دیے ہیں۔

اتحاد نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ فضائیہ صنعاء میں 24 گھنٹے فضائی کارروائیاں کر رہی ہے۔اس نے یمنی عوام سے اپیل کی کہ وہ حوثی ملیشیا کے کیمپوں اور اجتماعات سے اپنے جانی اور مالی تحفظ کے لیے دور رہیں۔

اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئرجنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا جان بوجھ کرسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں عام شہریوں، شہری ڈھانچے اوراقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنارہی ہے۔اس کے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اوروہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

ترکی المالکی نے وضاحت کی کہ متحدہ عرب امارات پر دشمنانہ حملہ جارحیت کی بزدلانہ کارروائی ہے اور بین الاقوامی انسانی قوانین اوراس کے روایتی قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انھوں نے اس بات پرزوردیا کہ اتحاد حوثی ملیشیا کے ان معاندانہ رویوں کو روکنے کے لیے ضروری آپریشنل اقدامات کر رہا ہے۔

عرب اتحاد نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے پیر کی صبح متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں دو اہداف پرحملوں کے جواب میں صنعاء کے نواح میں فوجی اہداف پر بمباری کی ہے۔ابوظبی میں حوثیوں کے مبیّنہ ڈرون حملے کے بعد ایک ٹینکر میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے ایک پاکستانی سمیت تین افراد ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے تھے۔

ابوظبی کے نئے ہوائی اڈے کے توسیعی حصے میں ایک تعمیراتی مقام اور تیل کی تنصیب میں پیر کی صبح آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے تین ٹینکر متاثر ہوئے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں جگہوں پرممکنہ طور پر ڈرون کی وجہ سے آگ لگی تھی۔

بعد ازاں متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے ان واقعات کو ’’دہشت گردانہ حملے اورمذموم مجرمانہ اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ’’ذمے داروں کوسزا نہیں دی جائے گی‘‘۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ابوظبی میں ان ڈرون حملوں کی مذمت کی تھی۔اس نے کہا کہ سعودی عرب برادرملک متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہارکرتا ہے اور وہ اس کی سلامتی اور استحکام کو درپیش کسی بھی خطرے کے مقابلے میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

خود سعودی عرب کوبھی یمن سے حوثی ملیشیا کےباقاعدگی سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا ہے۔ان کے ردعمل میں عرب اتحاد نے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔قبل ازیں 10 جنوری کوعرب اتحاد نے یہ اعلان کیا تھا کہ یمنی فورسز نے حوثیوں سے ضلع شبوہ کا واگزارکرالیا ہے اور اس پردوبارہ قبضہ کرلیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں